افغانستان سے تعلق رکھنے والا 13 سالہ لڑکا اتوار کے روز ایک طیارے کے پچھلے پہیے کے خانے میں چھپ کر کابل سے انڈیا پہنچا، اور معجزانہ طور پر اس نہایت خطرناک سفر میں زندہ بچ گیا۔
انڈین اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق افغان نوجوان نے 94 منٹ کا فضائی سفر طے کیا اور دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر محفوظ اور جسمانی طور پر مستحکم حالت میں لینڈ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے سے باخبر چار ذرائع نے اس کی تصدیق کی۔ویب سائٹ فلائٹ راڈار 24 کے مطابق، ایئر بس اے 340نے کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے صبح 8:46 بجے (انڈین وقت) پر اڑان بھری اور 10:20 بجے دہلی کے ٹرمینل تھری پر لینڈ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 7 بھارتی طیارے گرائے، دوبارہ جنگ ہوئی تو مداخلت کرینگے ، امریکی صدر ٹرمپ
ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق کرتہ پاجامہ پہنے ہوئے اس لڑکے کا اصل ارادہ ایران جانے کا تھا مگر غلطی سے انڈیا جانے والی پرواز میں سوار ہو گیا۔
اس نے اعتراف کیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر دیگر مسافروں کے پیچھے پیچھے داخل ہوا اور بورڈنگ کے دوران طیارے کے پہیے کے خانے میں چھپ گیا۔
ذرائع کے مطابق ’یہ واقعہ کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی سکریننگ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب پرواز کے لینڈ ہونے اور تمام مسافروں کے اُترنے کے بعد، ایک گراؤنڈ ہینڈلر نے لڑکے کو ہوائی اڈے کے محدود میں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھا اور حکام کو اطلاع دی۔
سنٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس نے لڑکے کو اپنی تحویل میں لیا اور بعد میں اسے ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کر دیا۔ذرائع کے مطابق چونکہ وہ نابالغ ہے، اس لیے اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا جنگی جنون،رافیل کے فیل ہونے پر تیجس طیارے خریدنے کی منظوری دیدی
ایک ماہرِ ہوابازی نے اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طیارے کے باہر اس حالت میں زندہ بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہےجبکہ ایک ڈاکٹر نے بھی ایسی شدید موسمی اور جسمانی حالات میں زندہ بچنے کو معجزہ قرار دیا۔
ہوابازی کے ماہر کیپٹن موہن رنگناتھن نے وضاحت کی کہ ’جب طیارہ اڑان بھرتا ہے تو پہیے کا دروازہ کھلتا ہے، پہیہ اندر جاتا ہے، پھر دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ لڑکا غالباً اس بند جگہ میں داخل ہو گیا، جو ممکن ہے کہ کسی حد تک دباؤ میں ہو اور درجہ حرارت بھی کیبن جیسا ہو۔ وہ اندرونی ڈھانچے سے چمٹ کر بیٹھا ہو گا، اسی وجہ سے بچ گیا۔




