ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک جرمن جریدے کو دئیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والا اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے امریکہ نے انخلا کے وقت افغانستان میں 7.2 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ چھوڑا ۔
جس میں چار لاکھ سے زائد چھوٹے ہتھیار،22 ہزار سے زائد گاڑیاں، اور 167 طیارے و ہیلی کاپٹر شامل ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جرمن جریدے کو پاکستان میں دہشت گردی میں استعمال ہونے والے امریکی اسلحے کے ثبوت دکھا دئیے۔
پاکستان نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ جن امریکہ افغانستا ن سے نکلا تو اس نے کچھ خطر ناک ہتھیار پیچھے چھوڑ دئیے ۔ آپ کو کن ہتھیاروں سے زیادہ خطرہ ہے اور اس کا حل کیا ہے ۔ ان سے سوال پوچھا گیا کہ وہ کون سے ہتھیارہیں تو یہ سب ثبوت کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہے ۔
چارنومبر 2023کو میانوالی ایئر بیس پر حملہ ، اس حملے میں دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان سے ہتھیار برآمد ہوئے ۔ ایم ون اور ایم فور ہتھیار تھے جو امریکی ساختہ تھے ہم نے یہ تمام ڈیٹا امریکہ سے بھی شیئر کیا ہے ، ان کے پاس بھی یہ موجود ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:غیر قانونی افغان باشندے دہشتگردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں:ڈی جی آئی ایس پی آر
اب یہ بھارتی پہلگام کے بعد ہے تو یہ سب ہے ،یہ ان 71لوگوں کو ہی ایک ہی رات میں ہلاک کیا گیا تھا یہ ہے وہ ہتھیار حقیقت یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد جو اسلحہ افغانستان میں چھوڑا گیا اس کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ SIGARکی رپورٹ کے مطابق 7.2ارب کا اسلحہ پیچھےرہ گیا ۔
جس میں 300،27۔4چھوٹے ہتھیار اور400۔17نائٹ و ژن ڈیوائسز یہ نائٹ و ژن ڈیوائسزاب دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں ، جس کی وجہ سے ان کی رات کے وقت کارروائی کی صلاحیت بہت بڑھ گئی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جو آ ج ایک دہشت گرد گروہ (فتنہ الخوارج )میں ہے ۔ وہ (خارجی دہشت گرد )کل چنف ڈالر زیادہ ملنے پر کسی اور جگہ لڑنے کو تیار ہو جا تا ہے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دنیا کو اب ان غیر ریاستی عناصر کے خطرے کا احساس ہو رہا ہے ۔




