ایئر فون کی تاریں کیوں ہمیشہ الجھ جاتی ہیں؟سائنس نے راز بتا دیا

(کشمیر ڈیجیٹل)وائرڈ ایئر فون استعمال کرنے والے تقریباً ہر شخص کو ایک ہی مسئلے کا سامنا رہتا ہے، جیب یا بیگ سے نکالتے ہی سیدھی آنے کے بجائے تاریں الجھ کر گانٹھوں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ نہ صرف وقت ضائع کرتی ہیں بلکہ جھنجھلاہٹ کا باعث بھی بنتی ہیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی، امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے اس روزمرہ مسئلے کو سمجھنے کے لیے مختلف لمبائی اور موٹائی کی تاروں پر ہزاروں تجربات کیے۔ نتائج کے مطابق ایئر فون کی تاریں عموماً دو بڑی وجوہات کی بنا پر الجھتی ہیں۔

پہلی وجہ لچکدار پن ہے، یعنی جتنی زیادہ تار نرم اور لچکدار ہوگی، اتنے زیادہ امکانات ہیں کہ وہ خود پر لپٹ کر گانٹھیں بنائے۔ دوسری وجہ لمبائی ہے، تحقیق میں بتایا گیا کہ 46 سینٹی میٹر سے لمبی تاروں کے الجھنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ڈیڑھ میٹر تک پہنچتے پہنچتے یہ امکان تقریباً 50 فیصد تک جا پہنچتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایئر فونز کی Y نما ڈیزائن بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ چونکہ تار تین مختلف سمتوں میں بٹتی ہے، اس لیے معمولی سی حرکت پر بھی یہ شاخیں آپس میں ٹکرا کر پیچیدہ گانٹھوں میں بدل جاتی ہیں۔

تحقیق میں دلچسپ ریاضیاتی پہلو بھی سامنے آیا۔ جب ایک لمبی اور لچکدار تار کسی محدود جگہ میں حرکت کرتی ہے تو اس کے الجھنے کا امکان 80 فیصد سے زائد ہوتا ہے، اسی لیے جیب یا بیگ میں رکھے ایئر فون تقریباً ہمیشہ اُلجھی حالت میں ملتے ہیں۔

روزمرہ حل

سائنسدانوں کے مطابق مکمل طور پر اس مسئلے سے بچنا ممکن نہیں، تاہم چند آسان عادات اپنائی جا سکتی ہیں:

  • ایئر فونز کو ہمیشہ گول یا لوپ کی شکل میں لپیٹ کر رکھیں۔
  • ٹوئسٹ ٹائی یا کیبل آرگنائزر استعمال کریں۔
  • بیگ یا جیب میں رکھنے سے پہلے تار کو ترتیب سے لپیٹ لیں۔

اور سب سے آسان حل یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو وائرلیس ایئر بڈز استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ سے قبل پاک بھارت کرکٹرز میں تناؤ نمایاں

Scroll to Top