مظفرآباد(کشمیرڈیجیٹل) یونین کونسل کوٹلہ مکڑا پہاڑ کے مقام پر غیرریاستی افغانیوں اور مقامی افراد کے درمیان تصادم غیرریاستی افغان پٹھانوں کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان قتل دو زخمی، مقتول کشمیری نوجوان کی کُچھ دن پہلے شادی ہوئی تھی
آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد کی وادی کوٹلہ میں مقامی آبادی شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افغانی افراد اور ان سے جڑے جرائم پیشہ عناصر ان کی جان و مال کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں
آزاد کشمیر کے حسین وادی کوٹلہ میں واقع بلند و بالا پہاڑ “کوہ مکڑا” آجکل غیر قانونی آمد و رفت کا راستہ بن چکا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق ہر سال گرمیوں کے آغاز سے سردیوں تک افغانی بکروالوں کی بڑی تعداد مسلح حالت میں اس راستے کے ذریعے علاقے میں داخل ہوتی ہے۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ لوگ مال مویشی چرانے اور چراگاہوں کا استعمال کرنے آتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی موجودگی علاقہ مکینوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بن گئی ہے۔
ہمارے مویشی چرائے جا رہے ہیں، چراگاہوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، جھگڑے، دھمکیاں اور اسلحے کی نمائش روز کا معمول ہے۔ ہمارے مکانات کو بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جاتی‘مقامی شہری کا موقف
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مالداری کے شعبے سے جڑے افراد شدید مالی اور جانی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
کئی بار انتظامیہ کو آگاہ کر چکے ہیں لیکن کوئی خاطر خواہ اقدام سامنے نہیں آیا۔ اگر یہی حال رہا تو ہمیں اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا پڑے گا
وادی کوٹلہ کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر کوہ مکڑا کے راستوں پر مستقل چوکیاں قائم کرے، غیر قانونی افراد کی آمد روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں، اور مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو وہ اپنے گھروں اور مال مویشیوں کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے
مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی :ظالم شوہر کا بیوی پر تشدد، سر کے بال مونڈ دئیے، شیر خوار بچی بھی چھین لی،ملزم گرفتار




