(کشمیر ڈیجیٹل) جرنل آف دی اینڈوکرائن سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق ناشتہ چھوڑنے اور دیر سے کھانے والے افراد میں وقت گزرنے کے ساتھ ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران جاپان کے نو لاکھ سے زائد بالغ افراد کا ڈیٹا جانچا گیا، جس سے پتا چلا کہ ناشتہ نہ کرنا، رات گئے کھانا، تمباکو نوشی، شراب نوشی، ورزش اور نیند کی کمی ہڈیوں کے ٹوٹنے اور آسٹیوپوروسس کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیاں مسلسل ”ری ماڈلنگ“ کے عمل سے گزرتی ہیں، یعنی پرانی ہڈیاں ٹوٹ کر نئی ہڈیاں بنتی ہیں۔ اگر صبح کے وقت جسم کو کیلشیم اور وٹامن ڈی جیسے ضروری غذائی اجزاء نہ ملیں تو یہ عمل متاثر ہوتا ہے اور ہڈیاں کمزور پڑ جاتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ناشتہ چھوڑنے والوں میں کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے، جو ہڈیوں کی کثافت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ پروٹین اور کیلشیم کی کمی بھی پیدا ہو جاتی ہے، جو فریکچر کے خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
غذائیت کے ماہرین کے مطابق ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا ہے، جس میں دودھ، دہی، انڈے، اناج اور گری دار میوے جیسے کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور اجزاء شامل کیے جائیں۔ ماہرین صحت نے زور دیا کہ دن کا آغاز کیلشیم اور پروٹین سے بھرپور خوراک کے ساتھ کیا جائے، چاہے ناشتہ ہلکا
یہ بھی پڑھیں: بھارت پر ٹیرف کم ہوگا یا نہیں؟ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک اعلان کردیا
پھلکا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ نہ صرف ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔




