راولاکوٹ (بیورو رپورٹ)راولاکوٹ پولیس اور طلباء آمنے سامنے آگئے، بھوک ہڑتالی طلباء گرفتار ۔ دھرنے میں شریک طلباء نے احاطہ کچہری سے ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی طرف مارچ شروع کیا تو پولیس پہنچ گئی۔
طلباء کی کمپلیکس کے سامنے دھرنا دینے کی کوشش کی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کر کے ایک درجن کے قریب طلباء کوگرفتار کر لیا ۔ اور بعد ازاں پولیس نے دھرنا اوکھاڑ دیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی ہٹ دھرمی اور ضلعی انتظامیہ کی بے بسی کے باعث طلبہ کی بھوک ہڑتال مزید شدت اختیار کر گئی ۔ مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد ہڑتالی طلبہ نے کفن باندھ کر ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی جانب مارچ شروع کر دیا ۔
اس دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آ گئے ہیں، جس سے شہر میں شدید کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل سردار جاوید شریف ایڈووکیٹ اور ممبر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ثالثی کی کوشش کی۔
ضلعی انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ گرفتار طلبہ کے خلاف دہشت گردی کے دفعات ختم کر کے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے گا۔ تاہم ہڑتالی طلبہ نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا اور ساتھیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ دہرا دیا۔
بھوک ہڑتال کو 48 گھنٹے سے زائد گزر چکے ہیں۔ پانچ طلبہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہو کر ہسپتال داخل کر دیے گئے ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر محمد سلیم خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہڑتالی طلبہ کا طبی معائنہ کیا اور خبردار کیا کہ طویل بھوک اور پیاس نوجوانوں کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پونچھ عبدالقادر بیگ نے بھی طلبہ سے مذاکرات کیے، تاہم طلبہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ دوسری طرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بھی ہڑتالی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے میدان میں آ گئی ہے۔
کور کمیٹی کے سینئر رہنما عمر نذیر کشمیری ریلی کے ہمراہ ہڑتالی کیمپ میں پہنچ گئے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ہڑتالی طلبہ کا کہنا ہے کہ محض “جیوے کشمیر” کا نعرہ لگانے پر ساتھیوں کے خلاف دفعہ 680A اور دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات قائم کرنا کھلی ناانصافی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کفن باندھ کر پرامن طور پر ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے سامنے دھرنا دیں گے اور یا تو ان کے ساتھی رہا ہوں گے یا پھر وہ اپنی جان دے دیں گے۔
ادھر آزادی پسند اور قوم پرست تنظیموں نے 30 اگست کو پونچھ جام کرنے کی کال دے رکھی ہے، جبکہ اناونسمنٹ کے لیے استعمال ہونے والی ایک گاڑی پولیس نے قبضے میں لے لی ہے۔ شہریوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور فضا مسلسل کشیدہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پانچ سے 20 لاکھ تک بلاسود قرضہ ، کشمیری نوجوانوں کیلئے بڑی خبرآگئی




