سونے اور جیولری برآمدات بند، ایف پی سی سی آئی نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

(کشمیر ڈیجیٹل) سونے اور جیولری کے برآمد کنندگان نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر ایس آر او 760 کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ اس ریگولیٹری آرڈر کی معطلی کے بعد سے ملک کی سونے کے زیورات کی برآمدات مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے مطابق، 6 مئی 2025 کو ایس آر او 760 کی اچانک معطلی نے نہ صرف تیار شدہ برآمدی کھیپوں کو متاثر کیا ہے بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد برآمد کنندگان پہلے ہی اپنے غیر ملکی سپلائرز سے قانونی معاہدوں کے تحت خام سونا منگوا چکے تھے اور اس کی بنیاد پر زیورات کی کھیپیں تیار کی گئی تھیں، مگر اچانک فیصلے نے یہ سب متاثر کر دیا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ حکومت کی قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے ایس آر او کے تحت ہونے والے تمام پرانے لین دین کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی۔ ان کے مطابق وزارتِ تجارت نے بھی ایس آر او کی بحالی کے حق میں سمری وزیراعظم آفس کو بھجوا دی ہے۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایس آر او بحال نہ کی گئی تو غیر ملکی خریداروں کی قانونی چارہ جوئی، برآمدی منڈیوں کا نقصان، پاکستان کی عالمی ساکھ پر منفی اثرات اور بین الاقوامی تجارتی فورمز پر تنازعات کھڑے ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم فوری مداخلت کریں اور کم از کم موجودہ اور زیر التوا کھیپوں کے لیے ایس آر او 760 کو بحال کیا جائے تاکہ پاکستان کی برآمدی پوزیشن محفوظ رہ سکے اور عالمی مارکیٹ میں اعتماد بحال ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پٹہکہ بازار میں تاجر یونین کے انتخابات 30 اگست کو ہوں گے

صنعتی حلقوں کو امید ہے کہ وزیراعظم اس اہم معاملے پر جلد فیصلہ کریں گے تاکہ زیورات کے برآمدی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

Scroll to Top