(کشمیر ڈیجیٹل)بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے باعث پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر فوری اقدامات کرتے ہوئے فوج کو طلب کر لیا گیا ہے۔ لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ اور سرگودھا میں فوج ضلعی انتظامیہ کی مدد کیلئے تعینات کی جا رہی ہے۔
حکومت پنجاب کے مطابق ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کو طلب کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ فوجی دستوں کی تعداد مقامی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد مقرر کی جائے گی جبکہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔
سیالکوٹ میں ریکارڈ بارش:
سیالکوٹ میں 24 گھنٹوں کے دوران 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ نالہ ڈیک کے سیلابی ریلے نے ہنجلی پل کو بہا دیا، جس سے درجنوں دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ شکرگڑھ میں مکان گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ نارووال میں 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
دریاؤں میں پانی کی صورتحال:
آبپاشی محکمے کے مطابق دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے:
چناب (ہیڈ مرالہ): 9 لاکھ کیوسک سے زائد، نہایت خطرناک سطح عبور۔
چناب (خنکی): 6 لاکھ 57 ہزار 511 کیوسک، سیلابی کیفیت میں اضافہ۔
راوی (جسر): 2 لاکھ 26 ہزار 240 کیوسک، شاہدرہ اور موٹروے 2 کے اطراف خطرہ۔
ستلج (گنڈا سنگھ والا): 2 لاکھ 45 ہزار 236 کیوسک، اگلے 12 گھنٹوں میں 2 لاکھ 80 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ۔
کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شرازی نے خبردار کیا ہے کہ اگر چناب کا بہاؤ 15 لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا تو دریا اپنی حدود توڑ سکتا ہے، تاہم ریلیف کیمپ قائم اور انخلا کے انتظامات مکمل ہیں۔
بڑے پیمانے پر انخلا اور نقصانات:
بہاولپور، بہاولنگر، وہاڑی، پاکپتن اور حافظ آباد میں کھیت، گھر اور اسکول پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اب تک ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں 6 ریلیف کیمپ قائم ہیں۔
ترجمان محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کر رہے ہیں اور تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ بروقت ردعمل عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور بڑے نقصان سے بچاؤ کیلئے کیا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں سیلابوں کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے برس یہ 22 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں کیلئے خوراک، پناہ اور طبی سہولیات فوری فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر اور شمال مشرقی پنجاب میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ




