اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے ساتھ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی فیسوں میں بھی اضافہ کیا جائے گا ۔
میڈیارپورٹس کے مطابق، وفاقی کابینہ نے ویسٹ پاکستان موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پرائیویٹ ، پبلک سروس اور کمرشل گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں اضافہ کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ سمری میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ٹوکن ٹیکس اور دیگر متعلقہ فیسیں 2019 سے تبدیل نہیں کی گئیں ، جس کی وجہ سے ریونیو کی وصولی متاثر ہو رہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل فون صارفین سے اضافی ٹیرف وصولی : پی ٹی اے کا وضاحتی بیان آگیا
اس فیصلے کے مطابق، ٹوکن ٹیکس کی شرح کو صوبائی حکومتوں کے مساوی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے ۔
وزارت داخلہ نے مزید کہا ہے کہ ٹوکن ٹیکس اور دیگر متعلقہ فیسوں میں تاخیر یا اضافہ نہ کرنے کی صورت میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن (ای ٹی او) دفاتر کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں خواتین صنعتی ورکرز کے لیے فری الیکٹرک بائیک اسکیم کا آغاز
وفاقی کابینہ نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ وزارت داخلہ کو ٹوکن ٹیکس اور دیگر فیسوں میں اضافہ اور ان کے تعین کا اختیار دیا جائے تاکہ ریونیو کے اہداف کو پورا کیا جا سکے اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے ۔




