نئی دہلی(کشمیر ڈیجیٹل) بھارتی فوج اگست میں اسپیتی ویلی، ہماچل پردیش میں ڈرون مقابلہ منعقد کرے گی، جسے “آتم نربھر بھارت” کے فریم ورک میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دی ٹریبون انڈیا کے مطابق، یہ مقابلہ دو مراحل پر مشتمل ہوگا ، پہلا مرحلہ 10 سے 15 اگست جبکہ دوسرا مرحلہ 20 سے 24 اگست تک جاری رہے گا۔
مقابلہ تین کیٹیگریز پر مشتمل ہے، ان ہاؤس ڈرونز، اوپن کیٹیگری اور OEMS۔ ان مقابلوں میں حصہ لینے والے ڈرون ساز اداروں کو 10,700 فٹ کی بلندی پر قدرتی رکاوٹوں کے اوپر اپنے ڈرونز کی کارکردگی دکھانا ہوگی، اور کسی بھی چینی پرزے کا استعمال ممنوع ہوگا۔
فوج کے ساتھ ڈرون فیڈریشن آف انڈیا بھی شراکت دار ہے جبکہ ہماچل اور اتراکھنڈ میں چین کے ساتھ LAC کی نگرانی سنٹرل کمانڈ کے سپرد ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس مقابلے کا مقصد ہائی ایلٹیٹیوڈ جنگی حالات میں جدید ڈرون حل تلاش کرنا اور قومی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں “آتم نربھر بھارت” کے پردے میں بی جے پی کے جنگی جنون اور قوم پرستی کے سیاسی بیانیے کو آگے بڑھانے کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن اور ناقدین کے مطابق، مودی سرکار نے فوج کو اشتہاری مہم کا حصہ بنا کر قومی اداروں کو سیاسی ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ دفاعی تماشوں اور بارڈر پر مشقوں کے ذریعے عوامی فلاح کے بجٹ کو جنگی سرمایہ کاری میں جھونکا جا رہا ہے۔
’آپریشن سندور‘ کی ناکامی کے بعد مودی حکومت فوجی اقدامات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے، جبکہ اندرونِ ملک سیاسی بحران اور سرحدی کشیدگی خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔




