لارڈز میں کھیلا گیا تیسرا روٿسے ٹیسٹ ایک یادگار اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ نے 22 رنز سے جیت لیا، لیکن اس شکست کے بعد بھارت کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ یہ میچ کیسے ہاتھ سے نکل گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے، ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بھی بھارت 371 رنز کا دفاع نہ کر سکا۔ لارڈز میں بھی بھارت نے پہلے 254 رنز پر صرف چار وکٹیں گنوائی تھیں اور پھر دوسری اننگز میں 41-1 کی مضبوط پوزیشن حاصل کی، مگر نتیجہ پھر بھی شکست کی صورت میں نکلا۔
اس میچ میں جسپریت بمرا ایک بار پھر سب سے نمایاں رہے۔ سات وکٹیں لینے کے علاوہ، انہوں نے بلے بازی میں بھی دلیرانہ کردار ادا کیا۔ ان کی نپی تلی گیند بازی نے انگلش بلے بازوں کو شدید دباؤ میں رکھا۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ بمرا نے جس دو ٹیسٹ میچز میں شرکت کی، بھارت دونوں ہارا، جبکہ جس میچ میں وہ نہیں کھیلے، وہ بھارت نے جیتا۔
اگر بھارت اپنی حکمتِ عملی پر قائم رہتا ہے کہ بمرا کو سیریز میں صرف ایک میچ مزید کھلانا ہے، تو اب فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ وہ چوتھا میچ ہو یا پانچواں۔
دوسری جانب، ریشبھ پنٹ کی فٹنس بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ان کی انگلی زخمی ہے، اور اگر وہ آئندہ میچز میں دستیاب نہ ہوئے، تو بھارت کو ان کی بیٹنگ کی کمی ضرور محسوس ہوگی، کیونکہ ان کا جارحانہ انداز اور پانچویں نمبر پر اعتماد کے ساتھ کھیلنا ٹیم کے توازن کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگرچہ دھروو جریال وکٹ کیپنگ میں بہتر نظر آئے، مگر پنٹ جیسا بیٹنگ اسٹائل ابھی بھی نایاب ہے۔
اس شکست کے باوجود بھارت نے رویندرا جڈیجا جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی سے یہ واضح کر دیا کہ وہ اس سیریز میں مکمل طور پر شریکِ مقابلہ ہیں۔ جڈیجا نے نہ صرف بیٹنگ بلکہ مزاحمت اور حکمت سے بھی ٹیم کی قیادت کی، جس پر حریف ٹیم نے بھی تعریف کی۔
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے میچ کے بعد کہا:”پانچویں دن، جب میچ کا فیصلہ ہونا ہو، ایسے لمحات میں میں اکثر خود کو فرنٹ لائن پر پاتا ہوں۔ میری عادت ہے کہ ایسے موقعوں پر مکمل جان لڑا دوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میدان میں تھوڑی بہت تلخی ضرور ہوئی، لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے:”یہ ایک بڑی سیریز ہے، جذبات بلند ہوتے ہیں، مگر کسی حد کو عبور نہیں کیا گیا۔ اس سے کھیل کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔”
جوفرا آرچر، جو چار سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آئے، جذباتی نظر آئے:”واپسی کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ ممکن نہیں ہو گی۔ یہ ایک طویل سفر تھا، اور اب امید ہے کہ پچھلی بار کی نسبت اب زیادہ دیر کھیل پاؤں گا۔”
بھارتی کپتان شبمن گل نے شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:”بدقسمتی رہی، لیکن جس انداز میں جڈیجا اور نچلے آرڈر نے میچ واپس لانے کی کوشش کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس طرح کے ٹیسٹ میچز میں جب دونوں ٹیمیں سب کچھ جھونک دیتی ہیں، تو آخر میں صرف احترام بچتا ہے۔”
سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے کہا:”انگلینڈ ہمیشہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا ہے، خاص طور پر اپنے میدان پر۔ جب میچ دبتا ہے تو ان کے پاس ایسا لیڈر ہوتا ہے جو جیت کا جذبہ جگا دیتا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ائیر انڈیا حادثے کے بعد بوئنگ طیاروں کے فیول سوئچز کی جانچ کا حکم جاری
اب سیریز 1-2 کی برتری کے ساتھ انگلینڈ کے حق میں ہے، اور چوتھا ٹیسٹ 23 جولائی کو اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا جائے گا۔




