پاکستان میں الیکٹرک بائیکس کی خریداری کو عام بنانے اور موٹر سائیکل انڈسٹری میں نئی جدت لانے کے لیے حکومت اربوں روپے کی سبسڈی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ای بائیکس، سکوٹرز اور تھری وہیلرز کے لیے مالی معاونت کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد خریداروں کا بوجھ کم کرنا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کو فروغ دینا ہے۔
پاکستان میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ موٹر سائیکلیں فروخت ہوتی ہیں اور اس مارکیٹ پر طویل عرصے سے ایٹلس ہنڈا کی اجارہ داری قائم رہی ہے۔ تاہم، اب اس پالیسی کے تناظر میں ہنڈا نے پہلی مرتبہ رواں سال کے دوران ملک میں الیکٹرک بائیکس متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو کمپنی کی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کا اشارہ ہے۔
معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے ایک نجی چینل کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس پالیسی کی اصولی منظوری دے چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ایک ماہ میں یہ پالیسی کابینہ سے بھی منظور ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چیلسی نے پی ایس جی کو شکست دے کر کلب ورلڈ کپ جیت لیا، تقریب سپر بول سے کم نہ تھی
ماہرین کے مطابق اگر یہ سبسڈی منصوبہ کامیابی سے لاگو ہو گیا تو صارفین کو ایندھن کی قیمتوں سے نجات، مرمت و سروس پر کم لاگت اور ماحول دوست سفر جیسے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جب کہ شہروں میں فضائی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔




