مظفرآباد میں پولٹری کے کاروبار سے وابستہ سینکڑوں تاجر شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ مرغی کی قیمتوں میں بے قابو اتار چڑھاؤ، خاص طور پر خرید و فروخت کی قیمت میں برابری کے باعث تاجر نہ صرف لاکھوں کے مقروض ہو چکے ہیں بلکہ اب کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
تاجروں کے مطابق زندہ مرغی کی فی کلو قیمت 460 روپے ہے، جب کہ ہول سیل ریٹ بھی یہی ہے، جس سے نہ دکان کا کرایہ نکلتا ہے، نہ ملازمین کی تنخواہیں اور نہ دیگر اخراجات۔ اس نقصان دہ صورتحال میں پولٹری کا کاروبار ‘نفع’ کے بجائے اب ‘وبال’ بن چکا ہے۔
متاثرہ تاجروں نے شکایت کی ہے کہ وہ انتظامیہ کو کئی بار مافیا کے خلاف شکایات کر چکے ہیں، لیکن نہ تو قیمتوں کو کنٹرول کیا گیا اور نہ ہی ذخیرہ اندوزوں یا ناجائز منافع خوروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہاکی اولمپئنز کا ایشیا کپ بھارت میں کرانے پر اعتراض
متفقہ فیصلے کے تحت آج سے مظفرآباد میں پولٹری کا کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جب تک انتظامیہ منافع خوروں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی اور ریٹ کا کوئی منصفانہ نظام وضع نہیں ہوتا۔




