غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپانی سائنسدانوں نے ایک ایسا انقلابی پلاسٹک تیار کیا ہے جو سمندر کے پانی میں حل ہو جاتا ہے اور کوئی نقصان دہ باقیات بھی نہیں چھوڑتا، یہ پلاسٹک نمکین پانی میں ایک گھنٹے کے اندر مکمل طور پر تحلیل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پلاسٹک تحلیل ہونے کے بعد مائیکروپلاسٹک میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ ایسے اجزا میں ٹوٹ جاتا ہے جو قدرتی بیکٹیریا کے ذریعے مزید تحلیل ہو سکتے ہیں۔
یہ پلاسٹک روایتی پٹرولیم پر مبنی پلاسٹک جتنا مضبوط ہے لیکن غیر زہریلا اور غیر آتش گیر ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج نہیں کرتا۔
یہ خبر بھی پڑھیں :سائنسدانوں کا بڑا کارنامہ،روشنی ٹھوس شکل میں تشکیل، کوانٹم ٹیکنالوجیز میں انقلاب برپا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ زمین میں یہ پلاسٹک تقریباً 10 دنوں میں مکمل طور پر تحلیل ہو جاتا ہے اور اس عمل کے دوران فاسفورس اور نائٹروجن جیسے غذائی اجزا خارج کرتا ہے جو کھاد کے طور پر کام آ سکتے ہیں۔
یہ پلاسٹک 2 آئنک مونومرز کو ملا کر تیار کیا گیا ہے جس میں سوڈیم ہیکسا میٹا فاسفیٹ اور گوانیڈینیم آئن شامل ہیں۔ ان کے درمیان بننے والے “سالٹ بریجز” پلاسٹک کو مضبوطی اور لچک فراہم کرتے ہیںلیکن نمکین پانی میں یہ بندھن ٹوٹ جاتے ہیں جس سے پلاسٹک تحلیل ہو جاتا ہے۔




