واشنگٹن : مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے نمایاں ترین ٹیکنالوجی ماہر بل گیٹس نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ اے آئی متعدد شعبوں میں انسانی ملازمتوں کو متاثر کرے گی، لیکن کچھ شعبے ایسے بھی ہیں جو اس ٹیکنالوجی کے دائرہ اثر سے باہر رہیں گے۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں بل گیٹس نے تین ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں کام کرنے والے افراد مستقبل قریب میں بھی اے آئی ٹیکنالوجی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق بایولوجی، توانائی کے ماہرین اور پروگرامرز ایسے پیشے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے دباؤ سے محفوظ رہیں گے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بایولوجسٹ انسانی ارتقاء اور حیاتیاتی پیچیدگیوں کو تخلیقی انداز سے سمجھتے ہیں، جو کسی مشینی ذہانت کی پہنچ سے باہر ہے۔ توانائی کے ماہرین بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرتے ہیں، جبکہ پروگرامرز ایسے پیچیدہ سافٹ ویئر ڈیزائن کرتے ہیں جن کی تیاری میں انسانی دماغ کی تخلیقی صلاحیت اور تجربہ اے آئی سے کہیں آگے ہے۔
بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اگرچہ اے آئی تجزیہ اور ڈیٹا پر کام کرنے میں نہایت موثر ہے، لیکن انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور جذباتی فہم اب بھی ناقابلِ تسخیر ہیں۔
بل گیٹس نے اس سے قبل بھی پیشگوئی کی تھی کہ آئندہ ایک دہائی میں اے آئی ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر لے گی کہ بیشتر شعبوں میں انسانوں کی ضرورت کم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں جیسے شعبے — مثلاً بیس بال — میں ہم کبھی بھی روبوٹس کو انسانوں کی جگہ کھیلتے نہیں دیکھنا چاہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں تعلیم، طب اور دیگر کئی شعبوں میں اے آئی انسانی مددگار بن کر تو آئے گی، لیکن کچھ پیشے انسانی ذہانت اور جذبات کی بنیاد پر ہمیشہ نمایاں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے کسان کا کارنامہ: نیویارک میں زیتون تیل کے عالمی مقابلے میں پاکستان کو اعزاز حاصل
انہوں نے فروری 2025 کے انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اے آئی کی ترقی بہت تیز رفتاری سے ہو رہی ہے جو کسی حد تک خوفزدہ کرنے والی بھی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف روزمرہ زندگی کو بدل دے گی بلکہ صحت، تعلیم اور کام کے ہر پہلو کو بھی متاثر کرے گی۔




