آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مصوّر عباسی، ان کے اہلِ خانہ اور ادارے کے ملازمین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ۔
این سی سی آئی اے کی ملک گیر کارروائیوں کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مزید 9 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصوّر عباسی کی جانب سے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو ملنے والی سنگین دھمکیوں، ادارے کے ملازمین کو ہراساں کرنے، دھمکی آمیز رویے اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کے خلاف درخواست جمع کروائی گئی تھی۔
درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 11 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی، جن کے خلاف قانونی کارروائی اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی ٹیموں نے اسلام آباد، راولپنڈی، مری، لاہور اور کراچی میں بیک وقت کارروائیاں کیں۔ ملک گیر مربوط آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 17 چھاپے مارے گئے، جن میں این سی سی آئی اے اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی کی ٹیموں نے حصہ لیا۔
کارروائیوں کے دوران 2 ملزمان کو سنگین دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں نعیم الحق ولد سراج الحق شامل ہیں، جنہیں راولپنڈی کے علاقے مورگاہ سے حراست میں لیا گیا۔
دوسرے گرفتار ملزم نوید احمد عباسی ولد محمد ریاض عباسی ہیں، جنہیں مری کے علاقے بانسرا گلی سے گرفتار کیا گیا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرفتار ملزم نوید احمد عباسی جمعیت کے ضلع مری کے سابق جنرل سیکریٹری رہ چکے ہیں۔اور وہسوشل میڈیا پر جمعیت سے منسوب مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ملک گیر کارروائیوں میں اسلام آباد پولیس اور اس کی کوئیک رسپانس فورسز نے بھی معاونت فراہم کی، جبکہ مشتبہ افراد کی شناخت اور سراغ رسانی کے لیے جدید سیلولر ٹریکنگ اور فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق معاملے میں شناخت کیے گئے دیگر 9 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصوّر عباسی، ان کے اہلِ خانہ اور ادارے کے ملازمین کو دھمکیاں دینے، ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کے معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔




