مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے طبی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے بیماریوں کی تشخیص کے معاملے میں ڈاکٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور اس حوالے سے ایک حیران کن طبی تحقیق سامنے آئی ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے ماہرین نے ’MAI-DxO‘ (ایم اے آئی-ڈی ایکس او) نامی ایک نیا میڈیکل مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل تیار کیا ہے۔ ایم اے آئی کی رپورٹ کے مطابق اس نئے اے آئی نظام نے پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے کہیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نظام نے نہ صرف زیادہ درست تشخیص کی بلکہ کم طبی ٹیسٹوں اور کم اخراجات کے ساتھ بیماری کو شناخت کرنے میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
مائیکروسافٹ کے ایم اے آئی-ڈی ایکس او کا بنیادی مقصد:
مائیکروسافٹ کے تیار کردہ اس اے آئی تشخیصی نظام کا بنیادی مقصد کسی بھی طرح ڈاکٹروں کی جگہ لینا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ڈاکٹروں کو پیچیدہ طبی کیسز کو مرحلہ وار سمجھنے اور درست تشخیص تک پہنچنے میں بھرپور مدد فراہم کرنا ہے۔
تجربات اور شاندار کارکردگی کے نتائج:
تحقیق کے مطابق جب اس نظام کو امریکہ کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں عام طور پر سامنے آنے والی بیماریوں کے کیسز پر آزمایا گیا، تو اس نے ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً 1.7 گنا زیادہ درست تشخیص کر کے دکھائی۔ اس تحقیق کے نتائج میں صرف درست تشخیص پر ہی انحصار نہیں کیا گیا بلکہ علاج کے مجموعی اخراجات اور طبی ٹیسٹوں کی تعداد کو بھی انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریضہ کی ہلاکت پر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا فوری ایکشن، چھٹی کے روز ایمز ہسپتال کا دورہ
کم اخراجات اور کم ترین طبی ٹیسٹ:
اے آئی نظام نے بعض مخصوص کیسز میں انسانی ڈاکٹروں کے مقابلے میں تقریباً نصف یا ایک تہائی کم اخراجات میں درست تشخیص تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی اس نظام نے تشخیص کے دوران نسبتاً بہت کم ٹیسٹ اور طبی طریقہ کار استعمال کیے۔
مستقبل کا جدید طبی نظام:
ماہرین کے مطابق اس شاندار پیش رفت سے مستقبل میں ایک ایسے جدید طبی نظام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جو کسی بھی معالج کو مریض کی علامات، اس کی طبی تاریخ اور تمام ٹیسٹوں کی معلومات کو مرحلہ وار سمجھنے میں مدد دے گا۔ اس سے ڈاکٹروں کو ممکنہ بیماریوں کا آپس میں موازنہ کرنے اور مریضوں کو غیر ضروری طبی ٹیسٹوں کے بوجھ سے بچانے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔
امریکی جریدے ’سائنس‘ کے اعداد و شمار:
امریکی جریدے ’سائنس‘ کی رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران ’ڈاکٹر اے آئی‘ عام امراض کی تشخیص کرنے میں 83.2 فیصد تک کامیاب رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں انسانی ڈاکٹر اسی تجربے کے دوران صرف 36.1 فیصد کامیابی حاصل کر سکے۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے پیچیدہ کیسوں والے تجربے میں ’ڈاکٹر اے آئی‘ کو 80.3 فیصد کامیابی ملی جبکہ انسانی معالجین اس سے تقریبا نصف یعنی صرف 46.8 فیصد کامیابی ہی حاصل کر پائے۔




