پلاسٹک کورز کے استعمال پر مکمل پابندی، بل متفقہ طور پر منظور

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کے کور چڑھانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے ایوانِ بالا (سینیٹ) نے ایک اہم ترمیمی بل کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد شہر میں پلاسٹک کے غیر قانونی استعمال کو روکنا اور سابقہ قانون میں موجود خامیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کتابوں پر پلاسٹک کورز کے استعمال پر پابندی سے متعلق قانون میں ترمیمی بل سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا۔ ایوان کے تمام اراکین نے اس بل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا، جس کے بعد اب اسلام آباد کی حد تک اس قانون پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا۔

قانون میں ترمیم کی ضرورت اور پس منظر:

بل کی منظوری کے موقع پر سینیٹر شیری رحمان نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کی متعدد بڑی اور معروف دکانوں پر اب بھی کتابوں پر پلاسٹک کے کورز کا استعمال بلاجھجک جاری ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اس اہم اور حساس معاملے پر وزارتِ داخلہ کے حکام کے ساتھ خصوصی اجلاس بھی منعقد ہو چکا ہے تاکہ اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

سینیٹر شیری رحمان نے دکانداروں کے رویے اور تفتیشی عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی متعلقہ حکام کی جانب سے دکانوں کی چیکنگ کا عمل شروع کیا جاتا ہے تو دکاندار ہر نوعیت کے پلاسٹک کو بائیو ڈیگریڈیبل یعنی قدرتی طور پر گل سڑ کر خود بخود ختم ہو جانے والا پلاسٹک قرار دے کر بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: محکمہ توانائی میں تعیناتیوں اور تبادلوں پر فوری پابندی عائد

بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کا مغالطہ اور ابہام کا خاتمہ:

سینیٹر شیری رحمان کے مطابق اس نئی قانون سازی اور ترمیم کا اصل اور بنیادی مقصد یہی ہے کہ کتابوں پر پلاسٹک کورز کے استعمال سے متعلق پہلے سے موجود قانون کے اندر جو ابہام یا خامی پائی جاتی ہے، اسے مکمل طور پر دور کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ابہام کی وجہ سے دکاندار قانون کی خلاف ورزی کرتے تھے اور خود کو بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کے نام پر بچانے کی کوشش کرتے تھے۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ وزارتِ داخلہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہمارے ملک میں اس وقت بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کی سائنسی یا تکنیکی طور پر جانچ پڑتال کے لیے کوئی لیبارٹری سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کی تصدیق یا تائید کرنے کا بھی کوئی پیمانہ یا معیار دستیاب نہیں ہے کہ کون سا پلاسٹک قدرتی طور پر حل پذیر ہے اور کون سا نہیں۔

بلاامتیاز پابندی اور قانونی استثنیٰ کا خاتمہ:

سینیٹر شیری رحمان نے اپنے خطاب کے آخر میں اس امر کو بالکل واضح اور حتمی کر دیا کہ اس نئی منظور شدہ ترمیم کے لاگو ہونے کے بعد اسلام آباد میں کتابوں پر کسی بھی قسم یا نوعیت کے پلاسٹک کورز کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوگی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد کسی بھی عام یا خاص شخص اور کسی بھی تجارتی یا سرکاری ادارے کو اس معاملے میں کسی بھی قسم کی رعایت یا استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یکساں طور پر کارروائی کی جائے گی۔