یومِ تاسیسِ آزاد کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا اسلاف کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت

آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا 79واں یومِ تاسیس آج 24 اکتوبر کو انتہائی جوش و جذبے اور شایانِ شان انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس پروقار موقع پر صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان اور وزیراعظم افتخار گیلانی نے اپنے خصوصی پیغامات جاری کیے ہیں۔ 

 صدرووزیراعظم  نےاپنے  پیغامات میں اسلاف کی لازوال قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریکِ آزادی کشمیر کو ہر حال میں جاری رکھنے، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان نے اپنے خصوصی پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ 24 اکتوبر ہماری قومی تاریخ میں محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ یہ قربانی، عزم، بے مثال حوصلے اور آزادی کے لیے اسلاف کی جدوجہد کی ایک روشن علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 1947ء میں اس روز آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کا قیام ان عظیم قربانیوں کا ثمر تھا جو ہمارے آباؤ اجداد نے آزادی، عزتِ نفس اور حقِ خودارادیت کے حصول کی خاطر پیش کیں۔ اپنے پیغام میں انہوں نے شہداء، مجاہدینِ آزادی اور بانیانِ آزاد کشمیر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر خطے میں آزادی کی شمع روشن کی۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیرحکومت کا 79واں یوم تاسیس،تقریبات کا شاندار آغاز

تحریکِ آزادی کا مقصد اور مقبوضہ کشمیر سے یکجہتی:

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یومِ تاسیس ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ تحریکِ آزادی کا بنیادی اور حقیقی مقصد ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر تحریکِ آزادی کشمیر کی ایک عظیم امانت ہے اور اس امانت کا اہم ترین تقاضا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی خاطر نبرد آزما اور جدوجہد کرنے والے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو کسی صورت فراموش نہ کیا جائے۔ صدر مملکت نے مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام کی بے مثال استقامت، بلند حوصلے اور مسلسل قربانیوں کو بھی زبردست سلام پیش کیا۔

عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ:

ڈاکٹر محمد نجیب خان نے اپنے پیغام میں عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی عالمی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا کا مسلمہ حقِ خودارادیت دلانے میں مؤثر اور فعال کردار ادا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے جنوبی ایشیا کے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کا واحد راستہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور لازمی حل سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔

ملی اتحاد، آئین کی بالادستی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل:

صدر آزاد کشمیر نے قومی اتحاد، آئین و قانون کی پاسداری و بالادستی، مضبوط و مستحکم اداروں اور عوامی خدمت کو ایک پائیدار اور خوشحال معاشرے کی بنیادی جڑیں قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ شہداء کے عظیم خوابوں کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا، حاصل شدہ آزادی کی پوری قدر کی جائے گی، تمام عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ ہوگا اور آنے والی نئی نسلوں کے لیے ایک بہتر، محفوظ اور انتہائی خوشحال مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کے جائز اور مسلمہ حقِ خودارادیت کے حتمی حصول تک ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

وزیراعظم افتخار گیلانی کا پیغام اور الحاقِ پاکستان کا عزم:

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ 24 اکتوبر کا دن دراصل ہمارے اسلاف کی بے مثال قربانیوں اور طویل جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی بنیاد تحریکِ آزادی کشمیر پر قائم ہے، جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی بھارت کے شدید جبر و استبداد کے سایے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم نے بھارتی مظالم کا سامنا کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں کو بھی دلی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

افتخار گیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برادر ملک پاکستان کے تعاون سے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی اور عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ وہ مبارک دن اب زیادہ دور نہیں ہے جب پوری ریاست جموں و کشمیر باقاعدہ طور پر پاکستان کا حصہ بنے گی۔

تاریخی پس منظر اور آزاد حکومت کا قیام:

19 جولائی 1947ء کو منظور ہونے والی تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان نے کشمیری عوام کے سیاسی مؤقف کو ایک انتہائی واضح اور درست سمت فراہم کی تھی، جبکہ ڈوگرہ راج کے خلاف مسلح و سیاسی مزاحمت اور کشمیری عوام کی مسلسل جدوجہد نے تحریکِ آزادی کو ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا تھا۔ اس کے بعد 24 اکتوبر 1947ء کو غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں آزاد جموں و کشمیر کی عارضی حکومت قائم کی گئی، جو کہ تحریکِ آزادی کو منظم کرنے کے لیے ایک اہم سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت سے زبردست پیشرفت ثابت ہوئی۔

یومِ تاسیس کا پیغام اور پائیدار حل کی ضرورت:

یومِ تاسیس کشمیری عوام کی طویل تاریخی جدوجہد، ان کی جانب سے دی گئی بے شمار قربانیوں اور آزادی کے لیے ان کے پختہ عزم کی تجدید و یاد دہانی کراتا ہے۔ اس عظیم اور تاریخی موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور اس دیرینہ مسئلے کے منصفانہ و پائیدار حل کے لیے بین الاقوامی اور عالمی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔