افغانستان اور زمبابوے کے مابین میچ میں کلین بولڈ بیٹر آؤٹ کیوں نہ قرار نہ پایا؟

بنگلادیش کی میزبانی میں کھیلی جانے والی سہ فریقی سیریز کے دوسرے میچ میں افغانستان نے زمبابوے کو 158 رنز سے شکست دے دی تاہم یکطرفہ مقابلے کے دوران برائن بینیٹ کے آؤٹ ہونے کے متنازع فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔

کرکٹ ویب سائٹ کری ایکس کے مطابق افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صدیق اللہ اٹل کی شاندار سنچری کی بدولت مقررہ اننگز میں 294 رنز بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:سہ ملکی سیریز،عرفات منہاس کی شاندار کارکردگی،پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دیدی

ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کی ٹیم ابتدائی وکٹیں جلد گنوا بیٹھیں، زمبابوے کا اسکور صرف 26 رنز تھا اوراس کے تین کھلاڑی پویلین واپس جا چکے تھے کہ برائن بینیٹ کی وکٹ پرتنازع کھڑا ہوگیا۔

افغانستان کے فاسٹ بولر امزت اللہ عمرزئی نے اننگز کے آٹھویں اوور کی آخری گیند اچھی لینتھ پر کرائی، جو نیچی رہی اور برائن بینیٹ کے بلے کیلئے اسے کھیلنا مشکل ہوگیا، گیند سیدھی وکٹوں سے ٹکرائی اوراسٹمپس بکھر گئے۔

افغانستان کے کھلاڑیوں نے وکٹ ملنے پر جشن منانا شروع کردیا لیکن بینیٹ نے امپائرسے شکایت کی کہ بولر کے رن اپ کے دوران اس کی پتلون سے تولیہ گرنے کے باعث ان کی توجہ بٹ گئی تھی۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کے قانون 20.4.2.6 کے مطابق اگربیٹر گیند کا سامنا کرنے کی تیاری یا گیند کھیلتے وقت کسی آواز، حرکت یا کسی اور وجہ سے توجہ بٹنے کا شکار ہو تو امپائر ڈیڈ بال قرار دے سکتا ہے۔

 یہ قانون میدان کے اندر یا باہر پیش آنے والے واقعے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

برائن بینیٹ کا مؤقف تھا کہ تولیہ گرنے کے واقعے نے انہیں گیند کھیلنے کے لیے تیار ہونے میں متاثر کیا، جس پر امپائر نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ڈیڈ بال کا اشارہ دے دیا۔

یوں گیند وکٹوں سے ٹکرانے کے باوجود بینیٹ کو آؤٹ قرار نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو پر 30روزہ پابندی عائد، جرمانہ بھی عائد

افغانستان کے کھلاڑی اس فیصلے سے ناخوش دکھائی دئیے ان کا مؤقف تھا کہ بینیٹ اسٹمپس سے ہٹے نہیں تھے اور تولیہ گرنے کے باوجود شاٹ کھیلنے کے لیے تیار تھے، اس لیے گیند کو ڈیڈ بال قرار دینا درست نہیں تھا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان اس فیصلے پرکافی دیر بحث جاری رہی، تاہم امپائر کے فیصلے کے بعد کھیل آگے بڑھا۔ اس متنازع واقعے نے افغانستان کی بڑی فتح کے دوران میچ کو غیر معمولی توجہ دلا دی۔