راولپنڈی:آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کی بڑی بیٹھک،پونچھ کی صورتحال پر تبادلہ خیال

راولپنڈی(کشمیر ڈیجیٹل)صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کی رہائش گاہ مجاہد منزل پر آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کا طویل مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں مسئلہ کشمیر، تحریک آزادی کشمیر، پاکستان کے ساتھ ریاستی وابستگی اور بالخصوص پونچھ ڈویژن میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اجلاس میں شرکت کی

قائد حزب اختلاف و صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی اور سابق امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر خالد محمود نے شرکت کی۔

اجلاس میں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

سیاسی رہنماؤں نے بھارتی جیلوں اور مقبوضہ کشمیر میں قید حریت رہنماؤں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر:ہسپتالوں میں ماہر اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی روٹیشن کا نیا نظام متعارف

اجلاس میں 19 جولائی 1947ء کی قرارداد الحاق پاکستان کے مندرجات کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ وابستگی اور یکجہتی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ۔

سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان کے ساتھ وابستگی ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔

سیاسی قیادت نے آزاد کشمیر، بالخصوص پونچھ ڈویژن میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بحران کے پرامن، باوقار اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پونچھ ڈویژن میں رسل و رسائل اور آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے، اشیائے خور و نوش اور ادویات کی بلا تعطل ترسیل کیلئےاقدامات کئے جائیں ۔

انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے۔ سیاسی رہنماؤں نے پونچھ کے عوام اور رائے دہندگان کو بلا تاخیر انتخابی عمل میں شامل کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں آزاد کشمیر کی داخلی خودمختاری اور موجودہ آئینی حیثیت کے تحفظ پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ 1974ء کے آئین کے تحت آزاد حکومت کو حاصل اختیارات اور ریاستی تشخص پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ریاستی مفادات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں دھرنوں اور احتجاج کے منتظمین سے اپیل کی گئی کہ وہ آزاد کشمیر کے آئین، قانون، سماجی اقدار اور روایات کی مکمل پاسداری کریں

کسی بھی ایسے عمل کا بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ نہ بنیں جس سے آئینی و قانونی حدود یا معاشرتی روایات کی خلاف ورزی ہو۔

سیاسی رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال کے حل کے لیے سیاسی مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔