پشاور(کشمیر ڈیجیٹل)خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا سورج غروب ہوتے ہی پارٹی رہنما مینا خان آفریدی بھی یکایک منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔
صوبے میں طویل عرصے تک حکومت کا حصہ رہنے کے بعد جیسے ہی اقتدار کا سایہ ڈھلا، مینا خان آفریدی سمیت تمام اہم شخصیات نے ایک ایک کر کے روپوشی اختیار کر لی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اقتدار جاتے ہی شفیع جان بھی غائب، ڈرامائی روپوشی پرسوالات اٹھ گئے
انہیں اس بات کا پورا ادراک ہے کہ آئندہ دنوں میں ان کے کرپشن، نااہلی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت احتساب کا عمل شروع ہونے والا ہے جس سے بچنا ناممکن نظر آ رہا ہے۔
اسی لئے مینا خان آفریدی نے احتساب سے بچنے اور کارروائی کو متنازع بنانے کیلئے خود ساختہ اغواء کا سہارا لیا ۔
پارٹی سے وابستہ سوشل میڈیا صفحات پر یہ پروپیگنڈا پھیلا یا جا رہا ہے کہ موصوف کو زبردستی اٹھایا گیا ہے، جبکہ حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اقتدار کا سایہ ہٹتے ہی علی امین گنڈا پور منظرِ عام سے غائب، قانونی گرفت سے بچنے کی کوششیں تیز
مینا خان آفریدی خود ہی گرفتاری کے ڈر سے ایک محفوظ پناہ گاہ میں جا کر بیٹھ گئے ۔ روپوش ہونے سے قبل گاڑیوں کو سنسان جگہوں پر چھوڑ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے ان کے ساتھ کوئی زبردستی ہوئی ہو۔
پی ٹی آئی کی حکومت جاتے ہی پارٹی عہدیداروں کا سارا ڈرامہ عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے اور قانونی اداروں پر دباؤ بڑھانے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔




