خیبرپختونخوا میں ممکنہ پرتشدد مظاہروں پر سیکیورٹی الرٹ: طاقت کے مرحلہ وار استعمال کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں ممکنہ ہنگامہ آرائی اور پرتشدد مظاہروں سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے طاقت کے باقاعدہ اور مرحلہ وار استعمال کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔

آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 83 تا 88 کے تحت صوبے کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو تحریری طور پر آپریشنل گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔

مرحلہ وار حکمتِ عملی اور طاقت کا استعمال:

جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہنگامہ آرائی کی صورت میں پہلے مرحلے میں مظاہرین کو واضح وارننگ دی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے جائیں گے۔

اس کے بعد بھی حالات قابو میں نہ آنے کی صورت میں ربڑ کی گولیاں اور پیپر بال گنز کا استعمال کیا جائے گا۔ اگر مظاہرین باز نہ آئے تو لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور شرپسندوں کو موقع پر گرفتار کرنے کے بھی صریح احکامات دے دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ: ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات

ڈسٹرکٹ پولیس افسران اور اینٹی رائٹ سکواڈ کے لیے ہدایات:

تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود احتجاجی مظاہروں کی جگہوں پر موجود رہ کر ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں۔

اس کے علاوہ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ اینٹی رائٹ سکواڈ کو گیس گن اور گیس شیلز وغیرہ کے ساتھ مکمل طور پر لیس کیا جائے۔ ساتھ ہی مظاہروں میں غیر مسلح سکواڈ بھی تعینات کیا جائے گا تاکہ وہ ہجوم میں موجود شرپسندوں کی فوری شناخت کر سکے۔

حساس تنصیبات اور عوامی مقامات کی سیکیورٹی:

عوامی تحفظ اور پبلک سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے مسلح پولیس اہلکاروں کو انتہائی اہم اور مناسب مقامات پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس حکمتِ عملی کے تحت تھانوں، اہم سرکاری دفاتر، عمومی عمارتوں، پٹرول سٹیشنز، بینکوں، شاپنگ سنٹرز اور مرکزی ہائی ویز سمیت تمام حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو ہر لحاظ سے سخت اور مضبوط کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔