ایران کی مسلح افواج پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے ترجمان برگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران امریکی عوام، اساتذہ، طلبہ اور میڈیا کے نمائندوں کے نام ایک انتہائی تفصیلی کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں زور دیا گیا ہے کہ اگر امریکی عوام اپنے حکمرانوں کو صیہونی ریاست کی پشت پناہی اور جارحانہ پالیسیوں سے الگ کر لیں تو دونوں ملکوں کے عوام پرامن طور پر ایک ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس طویل خط کے دوران حسین محبی نے واضح کیا کہ فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کو بالآخر اپنی سرزمین چھوڑ کر واپس اپنے ممالک لوٹنا ہی ہو گا۔
اس جاری جنگ اور حملوں کے حوالے سے ترجمان نے انکشاف کیا کہ اب تک 3600 سے زائد ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، اور ان میں 400 سے زائد معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شدید بمباری کے نتیجے میں آٹھ یونیورسٹیوں، تین اسپتالوں اور آٹھ اسکولوں کو بری طرح نشانہ بنایا گیا ہے۔ خط کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم اور قرآن پاک کی سورہ الرعد کی اس مبارک آیت سے کیا گیا ہے کہ ”خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔“ آئی آر جی سی کے ترجمان نے خط کا متن پڑھتے ہوئے نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجا۔
اسکول پر بمباری اور سپریم لیڈر کی شہادت کے انکشافات:
ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ سات ماہ قبل امریکی فوج نے تمام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے میناب کے ایک پرائمری اسکول پر اندھا دھند بمباری کی، جس کے نتیجے میں 168 معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کو شہید کر دیا گیا۔ عین اسی وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دفتر پر بھی براہ راست حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے خاندان کے چند افراد، جن میں ان کی 14 ماہ کی نواسی بھی شامل تھی، جام شہادت نوش کر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بحیرہ عرب بھی جلد دشمن سے پاک ہو جائے گا، ایرانی سپریم لیڈر کا پیغام
خط میں امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بے تحاشا مظالم اور تشدد کے باوجود امریکا اور اسرائیل کو اس طویل جنگ میں عبرتناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ اس کے برعکس ایران نے ایک فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے۔ خط میں فخریہ انداز میں سوال اٹھایا گیا کہ محض ایک فیصد دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک سو گنا بڑے بجٹ والی طاقتور امریکی فوج کے سامنے آخر کیسے سرخرو ہوا؟
جنگی اہداف کی ناکامی اور خلیج فارس میں نقصانات:
آئی آر جی سی کے مطابق، امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کی تقسیم کا ناپاک منصوبہ بنایا تھا، تاہم اس میں ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر نے جنگ کے 13 مختلف اہداف بیان کیے جن میں ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز پر قبضہ اور ملکی معیشت کی مکمل تباہی شامل تھی، لیکن وہ ان میں سے ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے خلیج فارس کے خطے میں قائم امریکی اڈوں اور اہم فوجی اثاثوں کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔
ایران کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 200 سے زائد مہنگے اسٹریٹیجک ڈرونز، 12 ٹرانسپورٹ و ٹینکر طیارے، 30 جدید جنگی طیارے، درجنوں ہیلی کاپٹر اور اہم ریڈار سسٹمز کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا، جبکہ خطے میں موجود 18 امریکی اڈوں کی کارروائی کی صلاحیت تقریباً صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ خط میں مزید بتایا گیا کہ ان امریکی حملوں کے نتیجے میں ایرانی عوام کے اندر قومی یکجہتی، مذہبی اقدار اور امریکا کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہوا ہے، اور اب آبنائے ہرمز پر مکمل طور پر ایران کا آپریشنل کنٹرول قائم ہے۔
قیادت اور مستقبل کا لائحہ عمل:
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس شاندار فتح کی بنیادی وجہ صرف جدید ڈرون اور میزائل کی طاقت نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات پر پختہ ایمان، ایرانی قوم کا باہمی اتحاد اور ایک برگزیدہ اور متقی رہنما کی مدبرانہ قیادت ہے۔ خط میں ایران کے تیسری سپریم لیڈر امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جرات مندانہ قیادت کو بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ایک اعلیٰ عالم، متقی اور بہادر رہنما ہیں جنہوں نے انتہائی کٹھن اور سخت حالات میں ملک اور مسلح افواج کو بہترین انداز میں آگے بڑھایا ہے۔
دوسری جانب امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا کے صدر اپنے ذاتی مفادات، کاروباری فوائد اور صیہونی لابی کے اشاروں پر اس غیر ضروری جنگ کو طویل کر رہے ہیں، جس کا اصل خمیازہ خود امریکی ٹیکس دہندگان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ خط کے اختتام پر امریکی عوام سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملک اور مستقبل کی بہتری کے لیے واشنگٹن کی حکومت اور صیہونی ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں کی بھرپور مخالفت کریں اور امریکا میں موجودہ حکمرانی کے نظام اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو تبدیل کرنے کے لیے اپنا آئینی اور سیاسی حق استعمال کریں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور ایرانی عوام دونوں ہی واشنگٹن میں بیٹھے ظالم حکمرانوں کے مظالم کا شکار ہیں، اس لیے امریکی عوام کو سچائی کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے حکمرانوں کو ان بضد اور تباہ کن جنگوں سے ہر صورت روکنا ہو گا۔




