حویلی کہوٹہ (رپورٹ حماد الحسنین)آزاد جموں و کشمیر کی نوزائیدہ تعلیمی درسگاہ، یونیورسٹی آف حویلی کہوٹہ نے قیام کے مختصر عرصے میں ہی جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ فاروق احمد کی دور اندیش قیادت، انتظامیہ کی دن رات محنت اور فیکلٹی ممبران کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
انتظامیہ کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 14 ستمبر 2026 کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کیساتھ یونیورسٹی کی وضعائی (Accreditation) کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا جو اس خطے کے طلباء کیلئے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یونیورسٹی آف حویلی اور مسلم ہینڈز کے مابین معاہدہ،100 سکالر شپس کا اعلان
اس وقت یونیورسٹی میں نئے داخلے (New Admissions) میرٹ پر جاری ہیں، جہاں فیسوں کو کم رکھا گیا ہے تاکہ غریب اور مستحق طلباء بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں اور کوئی بھی طالب علم صرف مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔
داخلے جاری ہونے والے شعبہ جات:
یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلے جاری ہیں، جن میں بی ایس کمپیوٹر سائنس (BS Computer Science)، ریاضی (Mathematics)، باٹنی (Botany)، ایجوکیشن (Education)، انگلش (English) اور سوشیالوجی (Sociology) کے شعبہ جات شامل ہیں۔
ڈین حبیب احمد راٹھور، رجسٹرار ڈاکٹر سید ماجد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز راجہ بسالت کیانی نے بتایا کہ ترکیہ (TIKA) کے تعاون سے یونیورسٹی میں 2 جدید کمپیوٹر لیبارٹریز تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں 80 جدید کمپیوٹرز نصب کیے جائیں گے۔
ان لیبارٹریز پر مجموعی طور پر 2.5 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ یہ لیبز ابھی زیرِ تعمیر ہیں اور جلد مکمل کر کے طلباء کیلئے کھول دی جائیں گی۔ مزید برآں، کل (17 ستمبر 2026) کو ترکیہ (TIKA) کے وفد کا یونیورسٹی کا ایک اہم دورہ بھی متوقع ہے، جس کا مقصد جاری منصوبوں کا جائزہ لینا اور اس تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ طلباء کی فلاح و بہبود یونیورسٹی کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں اینڈومنٹ فنڈ (Endowment Fund) قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد غریب اور مستحق طلباء کی تعلیمی مدد کرنا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ علاقے کے مخیر حضرات، کاروباری شخصیات اور عوام الناس سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس اینڈومنٹ فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں تاکہ نادار بچوں کی تعلیمی مدد کی جا سکے۔ اس سلسلے میں مسلم ہینڈز (Muslim Hands) کے اشتراک سے تعلیمی سال 2025-26 کیلئے 100 مستحق طلباء کو اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی:
یونیورسٹی کے قیام کے بعد ابتدائی طور پر گرلز کالج والی بلڈنگ میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئیں، جہاں تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بائی پاس روڈ (نزد چارلز کیمپ) پر یونیورسٹی کی نئی عمارت کا منصوبہ انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اس منصوبے کی لاگت 74 کروڑ روپے ہے۔ اس کے لیے ڈیزائن، ٹینڈر اور کنٹریکٹر کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، اور ٹینڈر کے ایک ہفتے کے اندر اندر تعمیراتی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔ 18 ماہ میں مکمل ہونے والی اس عمارت پر کام تیزی سے جاری ہے، جو یونیورسٹی کے تعلیمی اور تحقیقی معیار کو بلند کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تعلیمی معیار اور مستقبل کے اہداف:
فی الوقت یونیورسٹی میں 6 سے زائد تعلیمی پروگرامز پیش کیے جا رہے ہیں۔ داخلوں کا عمل، نتائج کا اعلان اور تمام تعلیمی معاملات شفافیت کیساتھ جاری ہیں۔ یونیورسٹی کا اگلا ہدف تعلیمی سیشن 2027 (Fall) میں نئے تعلیمی پروگرامز کا آغاز اور HEC کے نئے منصوبوں (Projects) پر کام کرنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل ممتازراٹھور کی کاوشیں رنگ لے آئیں، یونیورسٹی آف حویلی ایکٹ منظور
یونیورسٹی آف حویلی کی یہ تمام کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر قیادت میں خلوص، انتظامیہ میں محنت اور فیکلٹی میں لگن ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف حویلی کہوٹہ بلکہ پورے آزاد کشمیرکیلئے علم کی روشنی پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بنے گا۔




