اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آگ لگنے کے دوران معجزانہ طور پر بچ جانے والی واحد بچی ایزل بھی بالآخر دورانِ علاج زندگی کی بازی ہار گئی۔
والد کا بیان اور اسپتال میں علاج:
ایزل کے والد کا کہنا ہے کہ یہ معصوم بچی اس حادثے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج تھی، اور اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے دوران ایک نرس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس بچی کو بحفاظت بچا لیا تھا، تاہم اب وہ جانبر نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: پمز میں بچے کی جان بچانے والی نرس کیلئے چینی کمپنی کا بڑا اعلان
تحقیقاتی رپورٹ کے اہم انکشافات:
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی سانحہ پمز کی باضابطہ تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں اسپتال میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کو، جس میں 14 نومولود بچوں کی المناک اموات واقع ہوئی تھیں، انتظامی ناکامی قرار دیا گیا تھا جبکہ فرنٹ لائن عملے کو اس معاملے میں کلین چٹ دے دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، حادثے کے وقت فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا تھا۔ چارج نرس نسرین اختر، سیکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے چند ہی لمحوں کے اندر بچوں کو بچانے کی انتہائی اہم کارروائی میں حصہ لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو بحفاظت بچایا تھا اور بچوں کو نکالنے کے بعد وہ دوبارہ نرسری کے اندر داخل ہونے کی کوشش میں بھی مصروف رہی تھیں۔




