حکومتِ آزاد کشمیر کا نئی بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی کا اعلان

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں میں نئی تقرریوں اور تبادلوں پر اگلے احکامات تک پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے بدھ کے روز باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

استثنیٰ کی شرط اور متعلقہ ہدایات:

جاری کردہ نوٹیفکیشن میں مزید یہ واضح کیا گیا ہے کہ ناگزیر حالات کی صورت میں متعلقہ محکموں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی تقرری یا تبادلے کے عمل کو آگے بڑھانے سے پہلے حکومت سے باقاعدہ چھوٹ (ریلیکسیشن) حاصل کریں۔ اس پابندی سے متعلق مزید ہدایات بھی حکومت کی جانب سے متعلقہ اداروں کو جاری کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر حکومت پنجاب کے نقش قدم پر’’ستھرا کشمیر پروگرام‘‘ لانچ کردیا

پس منظر اور عوامی ردعمل:

واضح رہے کہ اس سے قبل آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے 2026 کے انتخابات کے اختتام پر پولنگ کے دوران عائد کردہ پابندیاں ختم کر دی تھیں، تاہم اب نئی بننے والی اے جے کے حکومت نے دوبارہ سے ان پابندیوں کو نافذ کر دیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے بے روزگار نوجوانوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے، جو یہ توقع کر رہے تھے کہ انتخابات کے بعد نئی حکومت کی جانب سے نئے روزگار کے مواقع کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب عوامی حلقوں کی طرف سے اس نئی پابندی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ تقرریوں پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ مستحق امیدواروں کو روزگار کی فراہمی کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا نظام قائم کرے۔

مزید پڑھیں: پابندی کے باوجودتقرریاں، تبادلے،محکمہ صنعت وتجارت سے وضاحت طلب