تجزیاتی رپورٹ/ جی ایم بخاری:حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر 14 نکات پر مذاکرات کی بات سامنے آئی ہے۔
سردار عمرنذیر کشمیری کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اپنے بنیادی چارٹر پر قائم ہے، تاہم موجودہ صورتحال سے نکلنے کیلئے 14 نکات پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔
دوسری جانب یہ سوال بھی اُٹھ رہا ہے کہ اگر مذاکرات ہی مسئلے کا حل تھے تو دھرنے اور کشیدگی سے قبل اس راستے کو مؤثر طور پر کیوں نہیں اپنایا گیا؟
آج ایک بار پھر حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 14 نکات پر مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کو موجودہ کشیدہ صورتحال سے نکلنے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: 27ستمبر کو لانگ مارچ کی کال،پی ٹی آئی اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب
سردار عمر نذیر کشمیری کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اپنے بنیادی چارٹر پر قائم ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے خاتمے اور مسئلے کے حل کیلئے 14 نکات پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان دھرنے سے قبل بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا، تاہم معاملات کشیدگی کی جانب بڑھ گئے۔
اس دوران کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں رکیں، مواصلاتی نظام متاثر ہوا جبکہ قیمتی انسانی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔
موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی پیشکش کو سیاسی طور پر مثبت پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا تھا تو یہ راستہ پہلے کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟
رپورٹ کے مطابق کسی بھی عوامی تحریک کی کامیابی صرف مطالبات منوانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اپنے لوگوں کو غیرضروری نقصان سے محفوظ رکھنا بھی اس جدوجہد کا اہم پہلو ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی ، تاجرتنظیم کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے مکمل لاتعلقی کا اعلان
اب دیکھنا یہ ہے کہ 14 نکات پر ہونے والے ممکنہ مذاکرات کس حد تک پیش رفت کا باعث بنتے ہیں اور کیا فریقین کسی قابلِ قبول حل تک پہنچنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔




