عمران خان کی قید، ملاقاتوں، طبی سہولیات سے متعلق الزامات مسترد، سی این این کو تفصیلات ارسال

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) حکومتِ پاکستان نے عالمی میڈیا سی این این کو بھیجے گئے ایک تفصیلی بیان میں سابق وزیراعظم اور قید میں موجود سیاسی رہنما عمران خان سے متعلق قید کی صورتحال، اہل خانہ سے ملاقاتوں، ٹیلی فون رابطوں اور طبی سہولیات سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا

وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ ان کی حراست عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں ہے اور انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ بااختیار عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہیں۔ ان کی قید پاکستان پریزن رولز، متعلقہ عدالتی احکامات اور ہائی پروفائل قیدی کے لیے ضروری سکیورٹی انتظامات کے تحت ہے۔

حکومت نے عمران خان کو مبینہ طور پر تعزیری تنہائی، بدسلوکی یا سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کو بھی ’’قطعی طور پر مسترد‘‘ کیا۔ بیان کے مطابق انہیں جیل قوانین کے تحت ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد اور ٹیلی وژن کی سہولت حاصل ہے، جبکہ سکیورٹی تقاضوں کے مطابق ان کے لیے گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان بھی دستیاب ہے۔

حکومت کے مطابق عمران خان کے لیے سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ کمپاؤنڈ مختص ہے، جس میں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل بند پانی شامل ہیں۔

900 سے زائد افراد کی ملاقاتوں کا دعویٰ

حکومت نے عمران خان کو اہل خانہ سے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری جیل ریکارڈ کے مطابق ان کی قید کے دوران تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ہوئے، جن میں 900 سے زائد افراد کے اندراجات شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں عمران خان کی بہنیں، دیگر اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندگان اور دیگر منظور شدہ افراد شامل رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی بھی اجازت دی گئی، جبکہ تازہ ترین ریکارڈ شدہ ملاقات 4 اگست 2026 کو ہوئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اشتیاق احمد کے مشہور ناول کا کردار انسپکٹر جمشید اب سینما میں، فلم ’آئی جے‘ کا پہلا سسپنس تھرلر ٹریلر ریلیز

حکومت کے مطابق جیل ریکارڈ میں پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطوں کا بھی اندراج موجود ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 21 مارچ 2026 کو عمران خان کی اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، جبکہ حال ہی میں ان کی بہنوں سے 18، 19 اور 25 اگست 2026 کو ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

طبی سہولیات سے متعلق الزامات بھی مسترد

حکومت نے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔

بیان کے مطابق قید کے دوران عمران خان کے تقریباً 30 طبی معائنے کیے گئے، جن میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور میڈیکل بورڈز نے حصہ لیا۔ ان معائنے میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال سمیت مختلف طبی ادارے شامل رہے، جبکہ جیل کے ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے ان کا معائنہ کرتے رہے۔

حکومت کے مطابق آنکھ کے پردے سے متعلق بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو خصوصی طبی علاج فراہم کیا گیا، جس میں اینٹی وی ای جی ایف کے پانچ انجیکشنز، ریٹینل امیجنگ، ادویات اور بعد ازاں فالو اَپ معائنے شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ جولائی 2026 اور 21 اگست 2026 سمیت ماہرین کی جانب سے کیے گئے معائنوں میں عمران خان کو ہوش و حواس میں، مستحکم اور کسی شدید یا غیر منظم طبی بگاڑ کے بغیر قرار دیا گیا۔

بہن کے حالیہ بیان کا حوالہ

حکومت نے اپنے مؤقف کے حق میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیاز ی کے حالیہ میڈیا سے گفتگو میں دیے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ حکومت کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نے عمران خان کو ’’100 فیصد فٹ‘‘ قرار دیا، ان کا بلڈ پریشر 120/80 بتایا اور کہا کہ ان کی آنکھ کی بیماری تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔

بیان کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ نے علاج کرنے والے ماہر امراض چشم کی فراہم کردہ طبی سہولت کو بھی سراہا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا یہ مؤقف طبی غفلت کے دانستہ یا منظم الزامات کی تائید نہیں کرتا۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کا دعویٰ

حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا گیا اور عدالت کی ہدایات کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرایا گیا جبکہ متعلقہ طبی اور انتظامی انتظامات کیے گئے۔ حکومت کے مطابق ان کی بہن بھی طبی معائنے کے موقع پر موجود تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ مزید کارروائی تک عمران خان کے اہل خانہ، سیاسی جماعت اور متعلقہ وکلا ان کی صحت یا طبی رپورٹس سے متعلق معلومات میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

حکومت نے کہا کہ قیدی کو مناسب طبی علاج کی فراہمی اس کا حق ہے اور اسے تسلیم کیا جاتا ہے، تاہم خفیہ طبی معلومات کو سیاسی مہم یا عوامی پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں اور طبی سہولت کے حق میں فرق کیا جانا چاہیے۔

جیل سے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی: حکومت

حکومت نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ قید میں موجود شخص تک رسائی کو جیل کے اندر سے ’’لامحدود سیاسی رابطے یا سیاسی سرگرمی‘‘ کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت کے مطابق جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت ملاقاتوں اور مواصلات کی معقول نگرانی یا پابندی کو رسائی سے مکمل انکار قرار دینا درست نہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت کے خیال میں عمران خان کی قید، ملاقاتوں اور طبی سہولیات کے معاملے کو ضرورت سے زیادہ سیاسی رنگ دیا گیا ہے اور دستاویزی ریکارڈ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

بیٹوں کے پاکستان آنے سے متعلق حکومتی مؤقف

عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آ کر اپنے والد سے ملاقات نہ کر پانے سے متعلق دعوؤں پر حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس اوورسیز پاکستانی نیشنل شناختی کارڈز (نائیکوپ) موجود ہیں۔

حکومت کے مطابق درست نائیکوپ پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے اور دونوں بیٹے جب چاہیں اس دستاویز کے ذریعے پاکستان آ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت نے واضح کیا کہ پاکستان کا سفر کرنے کی اہلیت اور جیل میں قیدی سے ملاقات کی اجازت دو الگ معاملات ہیں، اور ملاقاتیں جیل قوانین، عدالتی ہدایات اور سکیورٹی طریقہ کار کے تابع رہتی ہیں۔

حکومت نے CNN پر زور دیا کہ عمران خان سے متعلق آئندہ رپورٹنگ میں ان دستاویزی حقائق کو شامل کیا جائے اور ’’تصدیق شدہ‘‘ جیل اور طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع دعوؤں سے الگ رکھا جائے۔