اسلام آباد:جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی مجلس شوریٰ نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انتخابی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
مجلس شوریٰ نے وسطی باغ سمیت دھاندلی سے متاثرہ دیگر حلقوں میں شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے دوبارہ شفاف انتخابات کرانے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:3ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان، ہوسکتا ہے اس سے قبل اسلام آباد کی کال دیدوں، حافظ نعیم
مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن اور حکومتی ادارے شفاف انتخابات کے انعقاد میں بری طرح ناکام رہے۔
اجلاس کے مطابق بالخصوص انتخابات کا مرحلہ وار انعقاد ایک مخصوص جماعت کے حق میں فضا بنانے کے لیے پری پول رگنگ کی واضح حکمت عملی محسوس ہوتا ہے، جس کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔
شوریٰ نے الزام عائد کیا کہ انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر جعلی ووٹ بھگتانے اور ٹھپے لگانے کی شکایات سامنے آئیں۔
خاص طور پر حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ کا حوالہ دیتے ہوئے اجلاس میں کہا گیا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی جانب سے مبینہ طور پر ٹھپوں اور جعلی ووٹوں کے استعمال میں انتخابی عملہ بھی مکمل آلہ کار بنا رہا۔
اجلاس کے مطابق متعلقہ شکایات کے بارے میں الیکشن کمیشن کو متوجہ کیا گیا، تاہم شکایات کا مؤثر ازالہ نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں اس کے امیدوار بریگیڈیئر (ر) محمد خان کی واضح برتری متاثر ہوئی۔
مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ وسطی باغ اور دیگر دھاندلی سے متاثرہ حلقوں میں انتخابی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور جہاں بے ضابطگیاں ثابت ہوں وہاں ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس نے کہا کہ جعلی ووٹ، ٹھپہ مافیا اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ انتخابات میں ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
شوریٰ نے زور دیا کہ آزاد کشمیر میں حقیقی عوامی نمائندگی اور شفاف نظام حکومت کے قیام کے لیے شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔
اجلاس کے مطابق انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایسے حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں جہاں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد یا شکایات موجود ہیں۔
مجلس شوریٰ نے قرار دیا کہ شفاف انتخابات ہی ایک شفاف اور مضبوط نظام حکومت کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ غیر شفاف انتخابی عمل موجودہ سیاسی اضطراب اور بے چینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ غیر شفاف انتخابات کے انعقاد سے ان عناصر کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے جو موجودہ سیاسی نظام کی غیر شفافیت کو اپنی محرومیوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔
شوریٰ کے مطابق انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد مجروح ہونا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک امر ہے، اس لیے انتخابی اداروں کی غیرجانبداری اور ساکھ کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔
مجلس شوریٰ نے الزام عائد کیا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے صدر اور وزیراعظم پاکستان کے ہاؤسز کے وسائل اور اختیارات کا مبینہ طور پر بے دریغ استعمال کیا گیا۔
اجلاس کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر حکومت کے وزرا اور وفاقی وزرا کی جانب سے ترقیاتی اسکیموں کے اعلانات اور فنڈز کے استعمال سے بھی انتخابی شفافیت متاثر ہوئی۔
شوریٰ نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران حکومتی وسائل اور اختیارات کے استعمال سے سیاسی جماعتوں کے درمیان برابری کا میدان متاثر ہوتا ہے اور اس سے انتخابی نتائج کی غیرجانبداری کے بارے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
اجلاس نے قرار دیا کہ حالیہ انتخابات میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر بھی عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تقسیم کشمیر کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے ، ڈاکٹر مشتاق خان،سراج الحق
شوریٰ کے مطابق متنازع اور شکایات سے بھرپور انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہیے تاکہ انتخابی ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے جا سکیں۔
مجلس شوریٰ نے گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات سے متعلق سامنے آنے والی شکایات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں خطوں کی حساس سیاسی اور آئینی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہاں شفاف انتخابات اور عوامی مینڈیٹ کے مطابق نظام حکومت کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منتخب کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت، دھاندلی یا سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ حالیہ انتخابات میں سامنے آنے والی تمام شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں دوبارہ پولنگ کرائی جائے تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔




