اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی پر اختلافات میں شدت اختیار کرگئے۔
مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانیان کا وزیر اعظم بیرسٹرافتخار گیلانی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ سامنے آگیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کے ترقیاتی ویژن کو آزادکشمیر میں عملی شکل دیں گے، بیرسٹر افتخار گیلانی
صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق صدر مسلم لیگ ن آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے بھی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کو ووٹ نہ دینے کی ٹھان لی ہے ۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر افتخار گیلانی کی بطور وزیراعظم نامزدگی کے بعد مسلم لیگ ن میں پھوٹ پڑ گئی۔ پارٹی میں بغاوت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق صدر پارٹی شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بانی رہنماؤں میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر مسلم لیگ ن آزادکشمیر شاہ غلام قادر 2021سے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں
شاہ غلام قادر نے 2021 کے بعد پارٹی کو آزاد کشمیر بھر میں متحد اور منظم کیا۔2021کے انتخابات میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اسمبلی میں صرف 4 نشستیں حاصل کر سکی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کھاوڑہ:خونخوار چیتا آبادی میں گھس گیا، 10بکریاں ہلاک، شہری کا لاکھوں کا نقصان
2026 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر اسمبلی میں 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔
صدر مسلم لیگ ن آزادکشمیر شاہ غلام قادر نے ایکس پر اپنے پیغام میں سابق میرواعظ یوسف شاہ کے استعفے کا حوالہ بھی دیا
شاہ غلام قادر کے مطابق میرواعظ یوسف شاہ نے بند لفافے کے ذریعے اس وقت کے جوائنٹ سیکرٹری وزارت امور کشمیر کو صدارت سے استعفیٰ بھجوایا
شاہ غلام قادر کے مطابق اگلے روز جوائنٹ سیکرٹری وزارت امور کشمیر مظفرآباد پہنچے اور میرواعظ یوسف شاہ سے استعفے کی وجہ دریافت کی
شاہ غلام قادر کے مطابق میرواعظ یوسف شاہ نے جواب دیا: “میں دستانہ نہیں بن سکتا۔




