مرزا اختر اقبال کا کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان،نوجوانوں سے بڑی اپیل کر دی

آزاد کشمیر کے معروف سماجی کارکن اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سابق ممبر مرزا اختر اقبال نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مکمل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان کسی بھی ایسی سرگرمی کی حمایت نہیں کرتے جو ملک، ریاست یا قومی اداروں کے مفادات کے منافی ہو۔

مرزا اختر اقبال کا کہنا تھا کہ جب ایکشن کمیٹی محض عوامی حقوق اور بنیادی مسائل پر بات کرتی تھی، تو انہوں نے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اس تحریک میں اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی پوری زندگی عوامی جدوجہد کے لیے وقف کی ہے اور آزاد کشمیر کے عوام ان کی اس جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں۔

تحریک سے علیحدگی اور ایجنڈے کی تبدیلی کے اسباب:

انہوں نے انکشاف کیا کہ 20 سے 25 اکتوبر کے دوران ہی انہوں نے اس تحریک سے اپنی علیحدگی اختیار کر لی تھی، کیونکہ چند مخصوص عناصر نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس تحریک کے اصل مقاصد کو تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔ مرزا اختر اقبال کے مطابق اس کے بعد سے وہ ان کی کسی بھی سرگرمی کا حصہ نہیں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی رینجرز پر فائرنگ، سپاہی شاہ نواز شہید؛ بزرگ شہری کا شدید ردعمل

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا واحد مقصد صرف اور صرف بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا تھا، لیکن جب اس تحریک کو ایک مخصوص ایجنڈے پر گامزن کر کے ریاست اور اداروں کے خلاف صف آرا کیا گیا تو سچے محبِ وطن عناصر نے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔

نوجوانوں کے نام اہم اپیل اور حتمی موقف:

سماجی کارکن نے واضح کیا کہ چونکہ اب ریاست کی جانب سے اس تنظیم کو باضابطہ کالعدم قرار دیا جا چکا ہے، اس لیے ان کا یا ان کے اہلخانہ کا اس تحریک یا اس سے وابستہ لوگوں سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم محبِ وطن شہری ہیں اور پاکستان یا سیکیورٹی اداروں کے خلاف کسی اقدام کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے آزاد کشمیر اور بالخصوص مظفرآباد کے غیور نوجوانوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ خدارا اس کالعدم تحریک اور اس کی تمام تر سرگرمیوں سے مکمل طور پر دور رہیں اور کسی بھی منفی ایجنڈے کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

مرزا اختر اقبال کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان اور نوجوانوں کو اس سے دور رہنے کی ہدایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک کے اصل راستے سے ہٹنے پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔