نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے آزاد ڈیجیٹل کے نوجوان رپورٹر شاہد قریشی پرسرحد یونیورسٹی میں مبینہ تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کیخلاف سخت قانونی کارروائی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر عبدالرزاق سیال اور سیکریٹری ڈاکٹر فرقان راؤ سمیت گورننگ باڈی کے تمام اراکین نے آزاد ڈیجیٹل کے رپورٹر اور نوجوان صحافی کیساتھ مبینہ طور پر پیش آنے والے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نوجوان صحافی کو ایک یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں کورس کے دوران انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی گھنٹوں تک حبس میں رکھا گیا۔
نیشنل پریس کلب نے اس مبینہ واقعے کو صحافتی برادری کیلئےتشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی صحافی کو اپنے فرائض کی انجام دہی یا کسی پیشہ ورانہ سرگرمی کے دوران تشدد اور غیر قانونی پابندی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ صحافیوں کے ساتھ ایسا طرز عمل آزادی صحافت اور بنیادی انسانی حقوق پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
نیشنل پریس کلب کی گورننگ باڈی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنا یا انہیں کسی بھی صورت میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا قابل مذمت عمل ہے۔
صحافت معاشرے میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حقائق سامنے لانے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے صحافیوں کو کام کے دوران تحفظ فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں کم نمبروں پر مشتعل طلبہ کا خاتون ٹیچر پر تشدد، ویڈیو وائرل
اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی بھی ادارے یا انتظامیہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر کسی صحافی کیخلاف کوئی شکایت یا الزام موجود ہو تو اس کیلئے قانونی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
نیشنل پریس کلب نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سمیت متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
اعلامیے کے مطابق تحقیقات کے ذریعے مبینہ تشدد اور حبس میں رکھنے کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نیشنل پریس کلب نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک بھر میں صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بلا خوف و خطر انجام دے سکیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ صرف صحافتی برادری ہی نہیں بلکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی اور آزادی اظہار کے لیے بھی ضروری ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے سرگرم ادارہ ہے اور صحافیوں کو پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے پر زور دیتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے متعلق بین الاقوامی میڈیا نے تنہائی اور مبینہ تشدد کا بیانیہ مسترد کردیا
نیشنل پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر مبینہ تشدد یا غیر قانونی حراست کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ممکن ہوسکے۔




