ایکشن کیمٹی

سول نافرمانی کی باتیں، باغ کے شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

باغ (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کے پُرامن خطے کا ماحول خراب کرنے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کردار پر باغ کے شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کے نام پر چلائی جانے والی تحریک نے علاقے کے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔

تحریک کی آڑ میں روزگار متاثر ہوا، شہری

باغ کے شہریوں نے کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے یوئے کہا کہ تحریک کی آڑ میں غریبوں اور مزدوروں سے روزگار کے مواقع چھینے گئے، جس کے باعث کئی خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد احتجاجی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

غریب طبقہ مشکلات کا شکار ہونے کا دعویٰ

شہریوں نے کہا کہ احتجاجی سرگرمیوں کے نتیجے میں محنت کش طبقے کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوئے اور غریب خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق کسی بھی تحریک میں عوامی مفاد اور معاشی مشکلات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

تحریک کے مقاصد پر سوالات اٹھا دئیے

باغ کے شہریوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک کے نام پر بظاہر حقوق کی بات کی جاتی ہے، تاہم اس کے مقاصد کچھ اور دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان اور معمولات زندگی کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے۔

سول نافرمانی کی باتوں پر بھی ردعمل

شہریوں نے کہا کہ اب سول نافرمانی کی باتیں کرکے ایک بار پھر عوام کو ورغلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم عوام پہلے کے مقابلے میں صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے علاقے کا امن متاثر ہو۔

عوام چالوں کو سمجھ چکے ہیں، شہری

باغ کے شہریوں نے کہا کہ عوام اب کسی کے جھانسے میں آنیوالے نہیں اور وہ علاقے میں امن، روزگار اور معمولات زندگی کا تسلسل چاہتے ہیں۔ شہریوں نے زور دیا کہ مسائل کے حل کیلئے احتجاج کے بجائے بات چیت اور پُرامن ذرائع کو ترجیح دی جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ مسترد:مظفرآباد میں حالات معمول پر، تعلیمی ادارے کھل گئے