آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں پر انتخابی عمل اپنے آخری اور حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ان تمام مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ 24 اگست کو منعقد ہوگی، جن میں خواتین کی 5 جبکہ علما و مشائخ، اوورسیز کشمیریوں اور ٹیکنوکریٹس و دیگر پروفیشنلز کی ایک ایک نشست شامل ہے۔
خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان انتہائی اہم سیاسی مقابلہ جاری ہے۔ موجودہ پارلیمانی پوزیشن اور تمام اراکین اسمبلی کی عددی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تین خواتین کی نشستیں مسلم لیگ ن کے حصے میں آنا تقریباً یقینی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایک نشست پیپلز پارٹی کو ملنے کے امکانات مکمل طور پر واضح ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: 6 حلقوں کے انتخابی نتائج کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر
پانچویں نشست پر دلچسپ سیاسی مقابلہ:
اب خطے کے تمام سیاسی حلقوں کی نظریں پانچویں اور آخری خواتین کی مخصوص نشست پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ آیا یہ نشست مسلم لیگ ن اپنے نام کرتی ہے یا پھر پاکستان پیپلز پارٹی اپنے پارلیمانی تناسب کے تحت اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اسی نشست کو اس پورے انتخابی عمل کا سب سے اہم اور دلچسپ مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اوورسیز نشست کا حتمی نتیجہ:
دوسری جانب اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر چوہدری عبدالرحمن آرائیں بلا مقابلہ رکن آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان کے مقابلے میں کسی دوسرے امیدوار نے کاغذاتِ نامزدگی جمع نہیں کرائے تھے، جس کے باعث وہ بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔




