پی ٹی آئی

عالمی میڈیا کی بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صورتحال سے متعلق دعوؤں پر رپورٹس شائع

پاکستان سمیت مختلف عالمی میڈیا اداروں نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صورتحال سے متعلق دعوؤں پر رپورٹس شائع کی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت دیگر اداروں نے معاملے میں حکومتی مؤقف اور دستیاب معلومات بھی سامنے رکھیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے حکومتی مؤقف بھی رپورٹ کردیا

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ اور سیاسی جماعت کی جانب سے جیل میں سختیوں، ذہنی دباؤ، تنہائی اور طبی غفلت سے متعلق الزامات کو مسترد کیا ہے۔

اے پی کی بانی پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت پر رپورٹ

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزا کے نتیجے میں جیل میں ہیں۔ رپورٹ میں ان کی قانونی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔

900 سے زائد ملاقاتوں کا دعویٰ

امریکی جریدے دی گوشن نیوز کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ، وکلا، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندوں کی ان سے اب تک 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم رشتہ داروں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی موجود ہے۔

 جیل کی صورتحال پر مختلف مؤقف سامنے آگئے

عالمی میڈیا کی رپورٹس میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صورتحال سے متعلق پی ٹی آئی کے الزامات، حکومتی مؤقف اور ملاقاتوں و رابطوں سے متعلق معلومات کو جگہ دی گئی ہے، جس کے باعث معاملے پر مختلف دعووں اور مؤقف کے درمیان تقابل سامنے آیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے طبی معائنے کے حکم کو پی ٹی آئی میڈیا نے اسپتال منتقلی کا ڈراما بنا دیا