حکومت

پٹرول پر منافع کم، آئل کمپنیوں نے حکومت سے اضافہ مانگ لیا

پٹرولیم ڈیلرز کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی حکومت سے فی لیٹر پرافٹ مارجن میں فوری اضافے کا مطالبہ کردیا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی وزیر پٹرولیم کو خط لکھ کر کمپنیوں کے فی لیٹر منافع میں مناسب اور فوری اضافے پر زور دیا ہے۔

تین سال سے مارجن میں اضافے کا مطالبہ

او سی اے سی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں گزشتہ تین سال سے پرافٹ مارجن بڑھانے کا مطالبہ کررہی ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ کونسل کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کمپنیوں کو اپنے آپریشنز جاری رکھنے میں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

بڑھتے اخراجات سے مالی دباؤ میں اضافہ

کونسل کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بڑھتے ہوئے مالی اور ریگولیٹری بوجھ کے ساتھ ساتھ کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافے کا سامنا کررہی ہیں۔ ان حالات میں موجودہ پرافٹ مارجن پر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

فی لیٹر مارجن میں 2 روپے 23 پیسے اضافے کیا جائے 

او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل ناظر عباس زیدی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس وقت فی لیٹر 7 روپے 87 پیسے پرافٹ مارجن مل رہا ہے، جس میں مزید 2 روپے 23 پیسے اضافے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر پٹرولیم نے کمپنیوں کے مارجن میں 1 روپے 22 پیسے اضافے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم موجودہ مالی مشکلات کے پیش نظر مزید اضافے کی ضرورت ہے۔

ملٹی نیشنل سرمایہ کار بھی مشکلات کا شکار

ناظر عباس زیدی نے بتایا کہ او سی اے سی سے وابستہ ملٹی نیشنل آئل انویسٹرز کو بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات، مالی دباؤ اور ریگولیٹری تقاضوں کے باعث کمپنیوں کے لیے موجودہ پرافٹ مارجن پر کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

پٹرولیم سپلائی نظام مستحکم رکھنے پر زور

او سی اے سی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فی لیٹر پرافٹ مارجن میں فوری اور مناسب اضافہ کیا جائے۔ کونسل کے مطابق مارجن میں اضافے سے کمپنیوں کی مالی مشکلات کم ہوں گی اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کے نظام کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔