پاکستان کسٹمز نے ایک بہت بڑی اور چالاک ٹیکس چوری کا سراغ لگاتے ہوئے قوم کے 1.259 ارب روپے ڈوبنے سے بچا لیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس پورے اسکینڈل کے پیچھے ایک اہم سیاسی شخصیت کا ہاتھ ہونے کے واضح ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ کسٹمز کے سرکاری گوداموں (بانڈڈ ویئر ہاؤسز) میں رکھا گیا پیٹرول ٹیکس دیے بغیر مبینہ طور پر چپکے سے باہر نکال کر مارکیٹ میں بیچا جا رہا تھا، جسے کسٹمز انٹیلی جنس نے بروقت پکڑ لیا۔
جعلی کاغذات پر لاکھوں لیٹر پیٹرول کی ناہرا پھیری
ایف آئی آر کے مطابق، ملزمان نے مجموعی طور پر تقریباً 96 لاکھ لیٹر (6,975 میٹرک ٹن) پیٹرول پر بننے والی کسٹمز ڈیوٹی، ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی ادا ہی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی مظفرآباد تقریر پر پیپلز پارٹی کا شدید ردعمل: ‘ستھرا پنجاب محض ایک فراڈ ہے’، ندیم افضل چن
اس فراڈ کے لیے ملزمان نے جعلی اور فرضی کاغذات تیار کیے اور سرکاری سسٹم کو دھوکا دے کر پیٹرول منتقل کیا۔ یہ محض کوئی عام غلطی نہیں بلکہ سرکاری خزانے کو لوٹنے کی ایک باقاعدہ اور منظم منصوبہ بندی تھی۔
قوم کے 1.259 ارب روپے کا نقصان
اس ہیر پھیر سے حکومت کو 1.259 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا۔ یہ وہ پیسہ تھا جو عوام کی بہبود، سڑکوں، اسکولوں اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا تھا۔
جدید ٹیکنالوجی سے چوری پکڑی گئی
پاکستان کسٹمز نے اس چالاکی کو پکڑنے کے لیے اپنے ڈیجیٹل سسٹم (WeBOC اور PRAL) کا ڈیٹا چیک کیا اور جب گوداموں میں جا کر پیٹرول کا فزیکل سٹاک ناپا تو سرکاری ریکارڈ اور موقع پر موجود پیٹرول میں بڑا فرق نکلا، جس سے پورا فراڈ کھل کر سامنے آ گیا۔
مرکزی ملزمان پر ایف آئی آر درج:
اس معاملے پر ‘فلو پیٹرولیم’ (M/s Flow Petroleum) اور اس کے ڈائریکٹرز محمد وارث اور محمد آصف سمیت دیگر ملوث افراد کے خلاف کسٹمز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام ملزمان کے خلاف قانونی اور عدالتی کارروائی کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔




