پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والے مسائل کے مستقل حل کے لیے نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت پر مبنی نیا تصدیقی نظام متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سم کارڈ کے حصول کے عمل کو محفوظ اور آسان بنانا ہے۔
اسلام آباد سے موصول ہونے والی ویب رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ایک ایسے نئے اور جدید طریقہ کار پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ان تمام افراد کو سم کارڈ کے حصول میں بھرپور سہولت دی جا سکے گی جن کے فنگر پرنٹس کی تصدیق موجودہ نظام سے نہیں ہو پاتی۔
بزرگ شہریوں اور مزدوروں کے لیے خصوصی سہولت:
اس مجوزہ نظام میں سکیورٹی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی جائے گی۔ یہ منصوبہ بالخصوص ملک کے بزرگ شہریوں اور محنت کش مزدوروں کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہیں اکثر اوقات فنگر پرنٹس کی تصدیق کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کی جانب سے 4موبائل کمپنیوں پر74 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد
پی ٹی اے نے اس نئے تصدیقی طریقہ کار پر ہونے والی اب تک کی پیش رفت سے متعلق حکومت اور پارلیمان کو ایک تفصیلی رپورٹ بھی جمع کرا دی ہے۔ اتھارٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس کی تصدیق کے مستقل اور محفوظ متبادل کی تلاش میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
پاک آئی ڈی ایپ کے استعمال کی تجویز اور نادرا سے درخواست:
حالیہ تجویز کے مطابق چہرے کی شناخت کی تصدیق نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔ پی ٹی اے کا پختہ خیال ہے کہ یہ جدید نظام سم رجسٹریشن کے لیے صارفین کی محفوظ اور قابل اعتماد شناخت کو ممکن بنا سکتا ہے جس سے نظام مزید بہتر ہوگا۔
اس سلسلے میں اتھارٹی نے نادرا سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے، دونوں کی بائیومیٹرک تصدیق کرنے کی اجازت دی جائے۔ اتھارٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ نادرا ملک بھر میں سم کی تصدیق کے لیے اس ایپ کو باضابطہ طور پر اپنی منظوری دے۔
ٹیلی کام کمپنیوں کو سہولت کی فراہمی اور متبادل نظام کے اعدادوشمار:
نادرا سے باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد تمام ٹیلی کام کمپنیاں اپنے کسٹمر سروس مراکز اور فرنچائز آؤٹ لیٹس پر چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی سہولت فراہم کر سکیں گی۔ اس اہم اقدام سے ہزاروں افراد کے لیے سم رجسٹریشن کا عمل پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی، پی ٹی اے کی تصدیق
پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ جنوری 2025 سے اب تک متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے 70 ہزار 871 سمیں جاری کی جا چکی ہیں۔ یہ سمیں ان افراد کو فراہم کی گئیں جن کے فنگر پرنٹس معمول کے بائیومیٹرک نظام سے تصدیق نہیں ہو سکے تھے اور ایسے صارفین نے نادرا کی جانب سے جاری کردہ خطوط یا طبی سرٹیفکیٹس جمع کرا کے اپنی تصدیق مکمل کی، جس عارضی نظام کے ذریعے ہزاروں افراد کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر سمیں حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔




