پنجاب حکومت نے بیرون ملک، خصوصاً سعودی عرب میں ملازمت حاصل کرنے والے ہنرمند افراد کے لیے ایک انقلابی ’پرواز کارڈ‘ پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت ان تمام اہل امیدواروں کو بیرون ملک روانگی سے قبل درکار سفری اور ابتدائی اخراجات پورے کرنے کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے مطابق، اس پروگرام کا اصل مقصد ایسے ہنرمند افراد کی مالی معاونت کرنا ہے جنہیں بیرون ملک سے ملازمت کی پیشکش تو مل چکی ہو، مگر وہ سفری اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں۔
لاہور کے سروسز ہسپتال کے ڈائیلاسز وارڈ میں تقریباً دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے والی 45 سالہ نرس ثمیرہ مورس اور بیکری چین کے 24 سالہ برانچ منیجر شیف اسامہ فاروق بھی اس اسکیم سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں، جو اب بالترتیب ریاض اور دمام میں ملازمت کے لیے روانگی کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں۔ ثمیرہ مورس کا کہنا ہے کہ وہ یہاں ایک لاکھ روپے کما رہی تھیں جبکہ ریاض کے ہسپتال میں انہیں ماہانہ 3 ہزار سعودی ریال تنخواہ ملے گی، جو ان کے خاندان کے مالی حالات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک :صرف 5 ہزار روپے سے محفوظ ترین سرمایہ کاری کا سنہری موقع
پرواز کارڈ کے تحت ملنے والی سہولیات اور بجٹ:
پنجاب کے وزیراعلیٰ ٹاسک فورس برائے اسکلز ڈویلپمنٹ کے چیئرمین عدنان افضل چٹھہ کے مطابق، پرواز کارڈ کے ذریعے فضائی ٹکٹ، بیرون ملک بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی فیس، طبی معائنے، سعودی عرب کے لازمی ’تکامل‘ اسکل ویری فکیشن ٹیسٹ اور ذاتی اشیاء کی خریداری کے لیے بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے فنی تربیت کے نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے جدید تعمیراتی لیبارٹریاں، بھاری مشینری چلانے کے تربیتی مراکز اور خصوصی ہیلتھ کیئر اکیڈمیز قائم کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ، غیر ملکی آجرین کا اعتماد بڑھانے کے لیے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے نظام کو ڈیجیٹل بنا کر یورپی، برطانوی اور آسٹریلوی اداروں کے تعاون سے اسناد کی دوہری تصدیق کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
45 ہزار ہنرمند افراد کو بیرون ملک بھیجنے کا ہدف:
چیئرمین ٹاسک فورس نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئندہ 3 برسوں میں تقریباً 45 ہزار ہنرمند افراد کو بیرون ملک روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پرواز کارڈ سے مستفید ہونے والے پہلے 135 افراد کی بیرون ملک روانگی شروع ہو چکی ہے، جن میں سے 90 فیصد سے زائد افراد سعودی عرب جا رہے ہیں اور ان کی اکثریت مہمان نوازی اور تعمیراتی شعبوں میں خدمات انجام دے گی۔ عدنان افضل چٹھہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت سعودی عرب کے ’ویژن 2030‘ کے تحت درکار ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کے 30 برس سے کم عمر 12 کروڑ نوجوانوں کو عالمی منڈی کے مطابق مہارتیں فراہم کر رہی ہے۔ ثمیرہ مورس کے شوہر محمد راشد سمیت دیگر مستفید ہونے والے خاندانوں نے پنجاب حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی مشکلات کا شکار خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن قرار دیا ہے۔




