ڈونلڈ ٹرمپ

60دن میں آبنائے ہرمز میں کوئی ٹولز ٹیکس نہیں لیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال اور تجارتی گزرگاہوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مقررہ 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد کسی قسم کے ‘ٹولز’ (ٹیکس یا مراعات) کی گنجائش نہیں ہوگی ۔

اپنے ایک خصوصی بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ فریقین کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا، تو امریکا خطے کی سیکیورٹی پر اٹھنے والے اخراجات کے بدلے سخت ٹول عائد کرنے کا پورا حق رکھتا ہے ۔

ٹولز صرف امریکا کا حق ہیں:
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ٹولز اور ٹیکسز صرف اور صرف امریکا کے حق میں اور امریکا کی جانب سے ہی عائد کیے جا سکتے ہیں، اور اس معاملے میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کی سیکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے واشنگٹن اپنی شرائط پر کام کرے گا ۔

امریکا مشرقِ وسطیٰ کا ‘‘ نگہبان فرشتہ ’’:
خطے میں امریکی کردار پر بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ایک “نگہبان فرشتہ” (Guardian Angel) قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا طویل عرصے سے خطے کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جی 7 اجلاس میں تصویر کا تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی پھٹ پڑیں

انہوں نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر خطے کے ممالک کے ساتھ سیکیورٹی اور تجارتی امور پر کوئی باقاعدہ معاہدہ نہ ہوا، تو امریکا مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر آنے والے تمام تر دفاعی اخراجات ان ممالک پر ٹول ٹیکس عائد کر کے پورے کرے گا ۔

مبصرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال میں نئی ہلچل پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔