کشمیر پر 5جنگیں لڑ چکے،فیلڈمارشل نے امن کی جنگ بغیر لڑے جیتی،سکیورٹی ذرائع

اعلیٰ سیکورٹی ذرائع نے صحافیوں سے بریفنگ میں کہا کہ مذاکرات اور امن معاہدے میں پاکستان کے اہداف دو تھے۔

ایک پاکستان کے پڑوس اور خطے میں امن اور مسلم ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنا، پاکستان نے اس حوالے سے اخلاص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔
مسلم دنیا پر جنگ مسلط ہو چکی تھی ، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مدبرانہ کوشش سے مشرق وسطیٰ میں امن کی جنگ بغیر لڑے جیت لی۔ ہمیں اللہ سے امید ہے کہ اللہ ہمارے اخلاص کا اچھا بدلہ دیگا،

آج ہم جہاں ہیں وہ اللہ کی مدد سے ہوا قطر اور سعودی قیادت کی حکمت اور صبر بھی قابل ستائش ہے ترکی اور مصر نے جو اقدامات لئے وہ بھی اہم ہیں۔

سیکورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل حصہ ہے.1948 میں لڑی جانے والی جنگ پاکستان فوج کشمیریوں اور قبائل نے لڑی. کشمیر پر اب تک 5 جنگیں ہوچکی ہیں۔

کشمیر میں ایک ہی نعرہ کشمیر بنے گا پاکستان مقبوضہ کشمیر سے نعرہ آتا ہے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی اور سبسڈی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو خرید سکتی ہیں؟

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیرکی کشیدہ صورتحال ، بار کونسل کی مذاکرات کی کوششیں تیز، 16رکنی کمیٹی راولاکوٹ روانہ

سکیورٹی ذرائع کا مسئلہ کشمیر پر بریفنگ میں کہنا تھاکہ کیا آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش اور قانونی رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم کرسکتے ہیں؟۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی اس پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے اسلئے بھارت آزاد کشمیر میں آگ لگانے کی کوشش کررہاہے۔

آزادکشمیر میں نام نہاد حقوق کی تحریک کے پیچھے جو مذموم مقاصد اور اسکا اصل چہرہ ہے وہ اب عیاں ہوچکا ہے،پاکستان کی قیادت کی اولین ترجیح بات چیت اور مذاکرات ہوتے ہیں۔

پاکستان کی قیادت نے دو سال تک آزادکشمیر میں مذاکرات کئے، جو سہولیات مانگی دے دیں، جو کچھ سستا مانگا دیا گیا۔اب مظاہرین میں چُھپے کئی کردار اور انکے اصل مقاصد کُھل کر سامنے آچکے ہیں جب انکا اصل چہرہ عیاں ہوچکا ہے تو ان سے نمٹا بھی اُسی طریقے سے جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی پری بجٹ اجلاس، عوام دوست بجٹ پیش کرنے کا عزم

پاکستان ہمیشہ سے سفارتی و سیکورٹی تعاون اور ملٹری ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے ،ہر ملک سے ہر مرحلے پر اچھے تعلقات کے لئے پاکستان سیاسی قیادت کی رہنمائی میں مثبت اقدامات لیتا ہے۔

پاکستان کے ہر ملک سے تعلقات کسی دوسرے ملک کی پالیسی سے بالکل آزاد ہوتے ہیں.اسے ہی آزاد اور کثیر الہجہت سفارتکاری کہتے ہیں.سفارتی محاذ پر وسعت قلب اور بعید نظری سے معاملات چلتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد ترقی اور سبسڈی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے جذبات کو خرید سکتی ہیں؟کیا آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش اور قانونی رخنے اڑانے کی کوشش وہاں کے مسلمانوں کے حق خود ارادیت کو ختم کرسکتے ہیں؟

اس وقت مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب بڑی فوجی چھاؤنی ہے، وادی کے لوگ اضطراب کا شکار ہیں لیکن وہ اب بھی اس پوری طرح تیار اور یکسو ہیں کہ کشمیر کا حل بھارت کے پاس نہیں ہے۔