اسلام آباد : اگلے مالی سال کے بجٹ میں مختلف اشیا سستی ہونے کا امکان، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے عوام اور کاروباری طبقے کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے بجٹ مذاکرات کی اندرونی تفصیلات کے مطابق، آئندہ بجٹ میں مختلف درآمدی اشیا، ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں درآمدی اشیا پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کو کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امپورٹڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی کی شرح میں کمی متوقع ہے، جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری پر ٹیکس نافذ کرنے کا پلان تیار
مقامی صنعت کو فروغ دینے اور برآمدات بڑھانے کے لیے بجٹ میں ایکسپورٹ انڈسٹری کے سیکڑوں خام مال پر عائد ٹیرف میں کمی لائے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی (5G) کی مشینری اور آلات پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی۔
وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر وزارت صنعت و تجارت نے ‘نیشنل ٹیرف پالیسی’ کا مسودہ مکمل طور پر تیار کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے طے شدہ اہداف کے مطابق ٹیرف میں یہ کمی کی جائے گی تاکہ پاکستان کی مقامی صنعت عالمی مارکیٹ اور مقابلے کے قابل ہو سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں درآمدی اشیا کی 3 ہزار 149 ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کا امکان ہے، جبکہ 1900 سے زائد ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم ہو سکتی ہے۔ حکومت 15 فیصد والے سلیب کی 518 ٹیرف لائنز پر باقی ماندہ 2 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کو مکمل ختم کر دے گی۔ اس کے علاوہ 20 فیصد والے سلیب کی 2 ہزار 166 لائنز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 4 سے کم کر کے 2 فیصد، اور 20 فیصد سے زیادہ کسٹمز ڈیوٹی والی 468 لائنز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 6 فیصد سے گھٹا کر 4 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: نئے بجٹ میں موبائل فونز سستے ہوں گے یا مہنگے؟ پی ٹی اے ٹیکس ڈھانچے اور قیمتوں سے متعلق جانئے
بجٹ میں ملک کے اہم ترین شعبے زراعت سے وابستہ درآمدی خام مال پر بھی ٹیکسز کم کیے جا رہے ہیں۔ ایسے زرعی آلات، مشینری اور پرزے جو مقامی طور پر تیار نہیں ہوتے، ان کی امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کی جائے گی۔ مزید برآں، ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیکس کا پلانٹ لگانے والی مشینری اور آلات پر بھی اضافی کسٹم ڈیوٹی کم ہونے کا امکان ہے۔




