نیدرلینڈز کے وزیراعظم کے بیان سے مودی سرکار دفاعی پوزیشن پر، کشمیریوں کی جانب سے عالمی دباؤ کا خیرمقدم

نیدرلینڈز (ہالینڈ) کے وزیرِ اعظم کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، میڈیا کی آزادی اور آزادیِ اظہارِ رائے پر شدید تشویش کے اظہار کے بعد مودی حکومت کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت بھر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

نیدرلینڈز کے نو منتخب وزیرِ اعظم روب جیٹن نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے اپنی اہم ملاقات سے قبل مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کی موجودہ صورتحال پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈچ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ نیدرلینڈز اور یورپی یونین کے رکن ممالک بھارت میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں آزادیِ صحافت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق بھی شدید ترین دباؤ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی کا دورہ ناروے، کشمیریوں کا بڑا احتجاجی مظاہرہ، مظالم بے نقاب

روب جیٹن نے اپنے بیان میں واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت میں اقلیتیں، بالخصوص مسلم کمیونٹی اور دیگر چھوٹے مذہبی طبقے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشویش اس بات پر ہے کہ بھارت کس حد تک ایک ایسا جامع معاشرہ برقرار رکھ پاتا ہے جہاں تمام شہریوں کو یکساں اور برابر حقوق حاصل ہوں، جبکہ انہوں نے صحافیوں کی آواز دبائے جانے اور میڈیا کی آزادی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔

اس اہم اور واضح عالمی بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ کشمیری عوام اور حریت پسند حلقوں نے اس پیش رفت کو انتہائی اہم اور دوررس قرار دیا ہے۔ کشمیری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دنیا اب مودی حکومت کے پروپیگنڈے سے باہر نکل کر مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، طویل ترین فوجی محاصرے اور بھارت کے اندر بسنے والی اقلیتوں پر ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کھل کر آواز اٹھانے لگی ہے۔

مزید پڑھیں: اوسلو میں پریس بریفنگ: خاتون صحافی نے آزادیِ صحافت پر نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا

دوسری جانب، پاکستان نے ہمیشہ عالمی فورمز بشمول اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ اور بھارت میں جاری فاشزم کو مؤثر انداز میں اٹھایا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی جانب سے مسلسل اور پائیدار سفارتی کوششوں نے عالمی سطح پر نئی دہلی کے مؤقف کو بری طرح چیلنج کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب یورپی ممالک کے سربراہان بھی مودی کے سامنے ان حساس موضوعات پر کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کر کے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔