پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور فتنہ الخوارج کا مبینہ گٹھ جوڑ ایک دفعہ پھر سامنے آیا ہے، جہاں دو خوارج کی آپسی گفتگو پر مبنی مبینہ کال کی ٹیپ منظرِ عام پر آنے سے تہلکہ مچ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، افغانستان میں موجود خوارجی سرغنہ بادشاہ اور جنوبی وزیرستان کے خوارجی سرغنہ راکٹی کی مبینہ آڈیو لیک نے پاکستان تحریک انصاف اور فتنہ الخوارج کے تعلق کو پوری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے۔ آڈیو لیک میں ہونے والی گفتگو سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے ان خارجیوں کو جو سیاسی اور سماجی جگہ دی ہے، اسی وجہ سے اب یہ خوارج پی ٹی آئی کے ارکان کو اپنے ہی لوگ سمجھتے ہیں اور انہیں اغوا کرنے یا بھتہ لینے سے سختی سے روک رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر انتخابات 2026: جمعیت علمائے جموں و کشمیر کا پی ٹی آئی سے سابقہ اتحاد ختم
پی ٹی آئی ایم پی اے کی تلاشی اور افغان کمانڈر کا حکم:
مبینہ آڈیو کے مطابق فتنہ الخوارج کے راکٹی نے اپر جنوبی وزیرستان سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی آصف محسود کو بھتے کا پرچہ دیا اور ان کی تلاشی لی۔ اس پر افغانستان میں بیٹھے خوارجی بادشاہ نے فوری مداخلت کی اور راکٹی کو حکم دیا کہ آصف محسود کو گرفتار یا اغوا نہیں کرنا کیونکہ وہ تحریک انصاف کا بندہ ہے، اس کو جانے دیا جائے اور تلاشی لینے پر اس سے معذرت کی جائے۔
دہشت گرد کارندے کی تصدیق اور استثنیٰ کا دعویٰ:
افغان خوارجی عناصر کی جانب سے ملنے والے اس حکم پر راکٹی نے بھی آگے سے تصدیق کی کہ اس نے ایم پی اے کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا اور ان احکامات پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے۔ یہ مبینہ آڈیو اس تلخ حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ خوارج اب پی ٹی آئی رہنماؤں کو اپنا ہمدرد مانتے ہیں اور انہیں اغوا اور بھتہ خوری سے استثنیٰ دے رہے ہیں۔




