مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل )معروف سیاسی رہنما جاوید بٹ نے کہا ہے کہ مہاجرین کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، ان کا جائز حق دیا جائے ۔
تفصیلات کے مطابق جاوید بٹ نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستوں کو 1990 کے متاثرین کی مستقل آباد کاری سے مشروط کیا جائے ۔
1۔ جب تک 1990 کے مہاجرین کو فی خاندان 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا نہیں کیے جاتے۔ 2 ۔ فی خاندان 64 کنال اراضی (زمین) الاٹ نہیں کی جاتی تب تک مہاجرین کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو سیاسی مفادات کے لیے بلیک میل کرنے کی ہر گزکسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔
انہوں نے جموں و کشمیر کے مہاجرین کی آباد کاری اور قانون ساز اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے واضح اور حتمی شرائط عائد کر دی ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: جاوید بٹ سمیت 73 ووٹرز کیخلاف ہائیکورٹ کا حکم امتناعی معطل
انہوں نے کہا کہ جب تک 1990 کے کشمیری مہاجرین کی مستقل بحالی کلئے فی خاندان 1 کروڑ 50 لاکھ روپے نقد اور 64 کنال اراضی الاٹ نہیں کی جاتی، تب تک کوئی بھی فارمولا قبول نہیں کیا جائے گا ۔
جاوید بٹ نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کو سیاسی مفادات اور الیکشن کیلئے بلیک میل کرنے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستیں مہاجرین کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے ہیں نہ کہ ان کا سودا کرنے کے لیے۔
حکومت فوری طور پر 1990 کے متاثرین کو ان کا یہ جائز مالی اور آئینی حق (رقم اور اراضی) فراہم کرے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین نے تحریکِ آزادی اور وطن کے لیے قربانیاں دی ہیں، ان کی باعزت آباد کاری اور زمین کا حق ان کا بنیادی حق ہے جسے چھینا نہیں جا سکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کفایت شعاری کی مثال: جاوید بٹ کا موٹر سائیکل پر انتخابی مہم کا آغاز، دو حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی 21میں سے 6نشستوں کو ختم کرنے کے حوالے سے بازگشت سنائی دی جا رہی ہے۔




