بہروپیوں سے ہوشیار! ٹوئٹر پر ایک اور حسینہ کا اکاؤنٹ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نکلا

آن لائن دنیا میں پاکستان کے حق میں آواز اٹھانے کا ناٹک کرنے والا ایک اور مشکوک ٹوئٹر (ایکس) اکاؤنٹ بے نقاب ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق “عائشہ آفاق” کے نام اور ufaq_RM@ ہینڈل سے چلنے والا یہ اکاؤنٹ دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی سرپرستی میں چلنے والے ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو انٹرنیٹ پر بظاہر خود کو پاکستان کا حامی ظاہر کر کے کام کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ اکاؤنٹ خود کو ایک سچے اور محبِ وطن پاکستانی کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس کی آڑ میں یہ انتہائی چالاکی سے ایسا مخصوص بیانیہ فروغ دے رہا ہے جس کا مقصد عوام میں مایوسی اور الجھن پھیلانا، انتہا پسند عناصر کی تعریفیں کرنا اور عوام کی رائے کو پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس پروفائل کو ایک ‘ٹروجن ہارس’ قرار دیا ہے، جس کا مقصد پہلے پاکستانی صارفین کا اعتماد حاصل کرنا ہے اور پھر ان میں تفرقہ انگیز اور تقسیم کار بیانات کو پھیلانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی پروپیگنڈا فیکٹری بے نقاب: چینی اسکالر کے نام پر ’اے آئی‘ سے تیار کردہ جعلی مواد پکڑا گیا

اس اکاؤنٹ کے پروفائل کے اسکرین شاٹس سے یہ واضح انکشاف ہوا ہے کہ اس کی لوکیشن “جنوبی ایشیا” ظاہر کی گئی ہے اور یہ ایک “ساؤتھ ایشیا اینڈرائیڈ ایپ” کے ذریعے منسلک ہے۔ ناقدین اور سوشل میڈیا ماہرین نے جب اس اکاؤنٹ کی پرانی پوسٹس اور سرگرمیوں کے انداز کا تفصیلی تجزیہ کیا، تو یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی آن لائن بحث کا حصہ بننے کی کوششوں کے باوجود اس اکاؤنٹ کی جڑیں اور شروعات بھارت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد صارفین کی جانب سے مہم شروع کر دی گئی ہے جس میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام مشکوک اور منظم پاکستان مخالف مہمات میں ملوث اکاؤنٹس کو فوری طور پر ان فالو کریں اور ان کی رپورٹ کریں۔

سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانا، بے بنیاد پروپیگنڈا کرنا اور فالز فلیگ آپریشنز (مطلوبہ عزائم کے تحت فرضی کارروائیاں) سرانجام دینا بھارت کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی بھارت سے چلنے والے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان، بالخصوص حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ اور گمراہ کن دعوے پھیلا رکھے ہیں۔ یہ دعوے آن لائن دنیا میں بہت تیزی سے توجہ تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں مستند ذرائع یا سرکاری تصدیق نہ ہونے کے باعث دم توڑ دیتے ہیں۔

اس بھارتی پروپیگنڈے کی تازہ ترین مثال ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی جانے والی وہ پوسٹ ہے جس میں یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کے شہر ‘Ürümqi’ میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ اس دعوے کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کیا گیا لیکن بعد میں یہ سراسر جھوٹا ثابت ہوا، کیونکہ پاکستان، افغانستان یا چین کے کسی بھی سرکاری عہدیدار کی جانب سے اس کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ماضی میں بھی سفارتی ملاقاتوں، سیکیورٹی کے حالات یا اندرونی معاملات سے متعلق اسی طرح کے من گھڑت دعوے کیے گئے جو بعد میں غیر مستند اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ثابت ہوئے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر تصدیق شدہ ذرائع پر بھروسہ کرنا کتنا بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی پروپیگنڈا فلم کا جواب: فلم ’میرا لیاری‘ 8 مئی کو ریلیز ہوگی

خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھنے والے صارفین کے لیے آن لائن دنیا میں جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کا پھیلاؤ ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرینِ ابلاغ کا کہنا ہے کہ میڈیا کے استعمال کی سمجھ بوجھ کو بہتر بنا کر اور معلومات کے اصل ذرائع کی باریک بینی سے پڑتال (Cross-checking) کر کے ہی ایسے جھوٹے دعووں کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے۔ صارفین کے اپنے مفاد میں یہ بات ضروری ہے کہ وہ کسی بھی حساس یا علاقائی تعلقات سے جڑی معلومات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں، کیونکہ کسی بھی خبر کی تصدیق کے لیے آفیشل بیانات اور معتبر نیوز ذرائع ہی سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ راستہ ہیں۔