ملک بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منائے جانے والے عظیم تہوار عیدالاضحیٰ کی تاریخ کا فیصلہ کرنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم ترین اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے۔ ترجمان وزارتِ مذہبی امور کے مطابق یہ اجلاس کل 17 مئی بروز اتوار بمطابق 29 ذیقعدہ کو منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے چاند کی رویت کی شہادتیں جمع کی جائیں گی۔
وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مرکزی کمیٹی کا بنیادی اجلاس پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (محکمہ موسمیات) کراچی کے دفتر میں ہوگا، جس کی صدارت رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد کریں گے۔ اس مرکزی اجلاس کے ساتھ ساتھ تمام صوبائی دارالحکومتوں اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں زونل اور ڈسٹرکٹ رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی اسی شام منعقد کیے جائیں گے۔ تمام مقامی اور زونل کمیٹیاں اپنے اپنے علاقوں سے چاند کی رویت سے متعلق ملنے والی کچی اور پکی شہادتوں کو یکجا کر کے مرکزی کمیٹی کو ارسال کریں گی، جس کے بعد شرعی اصولوں کے تحت پاکستان میں یکم ذوالحجہ اور عیدالاضحیٰ کی حتمی تاریخ کا باقاعدہ اور حتمی اعلان صرف مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:عید الاضحیٰ پر سٹیٹ بینک کا ملک گیر ’گو کیش لیس‘مہم کا آغاز
سپارکو کی اہم پیشگوئی اور سائنسی ایجادات:
رویت ہلال کمیٹی کے روایتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ اس بار سائنسی ایجادات اور خلائی سائنس کے ماہرین بھی سرگرم ہیں۔ پاکستان کے قومی خلائی ادارے ’سپارکو‘ نے فلکیاتی حساب کتاب کے بعد پہلے ہی ایک اہم پیشگوئی جاری کر رکھی ہے۔ سپارکو کے مطابق 17 مئی کی شام کو پاکستان کے بیشتر علاقوں میں مطلع صاف رہنے کی صورت میں ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ اگر سپارکو کی یہ سائنسی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے اور کل شام چاند نظر آ جاتا ہے، تو پاکستان میں یکم ذوالحجہ 18 مئی کو ہوگی۔ اس فلکیاتی ریاضی کے حساب سے پاکستان میں عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائے جانے کی بڑی اور مضبوط امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
منڈیوں کی گہما گہمی اور معاشی سرگرمیاں:
دیگر دنیاوی تہواروں کی طرح عیدالاضحیٰ بھی پاکستانی معاشرے میں گہرے معاشی اور سماجی اثرات کی حامل ہے۔ کل ہونے والے اس اہم ترین اجلاس پر نہ صرف عام شہریوں بلکہ ملک بھر کے مویشی تاجروں کی نظریں بھی جمی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق چاند کا فیصلہ ہوتے ہی قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کا گراف اچانک اوپر چلا جائے گا۔ اگر چاند کل نظر آ جاتا ہے تو خریداروں اور تاجروں کو منڈیوں کے مینیجمنٹ کے لیے پورے 10 دن کا وقت مل جائے گا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ محکمہ موسمیات کے جدید آلات اور سپارکو کی سائنسی معاونت کے باعث اس بار رویت ہلال کمیٹی کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا، اور ماضی کی طرح چاند کی رویت پر پیدا ہونے والے ممکنہ تنازعات کا خدشہ بھی انتہائی کم ہے۔




