نیشنل سیونگ سینٹر نے 100 روپے اور 1500 روپے والے انعامی بانڈز کی آئندہ قرعہ اندازیوں کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور بانڈز رکھنے والے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
100 روپے والے انعامی بانڈ کی 54 ویں قرعہ اندازی:
نیشنل سیونگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، 100 روپے والے انعامی بانڈ کی 54 ویں قرعہ اندازی 15 مئی 2026 کو منعقد ہوگی۔ حکام کے مطابق اس قرعہ اندازی میں پہلا انعام 7 لاکھ روپے کا ہوگا جو ایک خوش نصیب کو ملے گا۔ دوسرے انعام کے لیے 2 لاکھ روپے کی رقم مقرر کی گئی ہے جو تین افراد میں تقسیم ہوگی، جبکہ تیسرے انعام کے طور پر متعدد افراد کو ایک ایک ہزار روپے دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سیونگز 1500 روپے پرائز بانڈ زکی قرعہ اندازی رواں ماہ ہو گی
ٹیکس کٹوتی اور قانونی ضوابط:
حکام نے واضح کیا ہے کہ انعامی رقم پر ٹیکس کی کٹوتی حکومتِ پاکستان کے قوانین کے مطابق کی جائے گی۔ فائلر (رجسٹرڈ) افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 15 فیصد جبکہ نان فائلر (غیر رجسٹرڈ) افراد کے لیے 30 فیصد ہوگی۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 156 کے تحت یہ کٹوتی حتمی ٹیکس تصور کی جائے گی جو کہ ناقابلِ واپسی ہوگی۔ نیشنل سیونگ سینٹر کے مطابق انعامی بانڈز میں سرمایہ کاری مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے کسی بھی وقت بغیر کسی کٹوتی کے نقدی میں تبدیل کروایا جا سکتا ہے۔
1500 روپے والے انعامی بانڈ کی 106 ویں قرعہ اندازی:
دوسری جانب، نیشنل سیونگ سینٹر سیالکوٹ 15 مئی 2026 کو ہی 1500 روپے والے انعامی بانڈ کی 106 ویں قرعہ اندازی منعقد کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس قرعہ اندازی میں پہلے انعام کی رقم 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ دوسرا انعام جیتنے والے امیدواروں کو 10 لاکھ روپے کی رقم دی جائے گی۔ واضح رہے کہ رواں سال فروری میں ہونے والی قرعہ اندازی میں پہلا انعام بانڈ نمبر 429148 کا نکلا تھا۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی : حکومت نے 9 ماہ میں صارفین سے 12 کھرب روپے سے زائد وصول کیے
خریداری اور کلیم کا طریقہ کار:
کوئی بھی پاکستانی شہری اپنے اصل شناختی کارڈ کی کاپی کے ہمراہ اسٹیٹ بینک (SBP-BSC) کے دفاتر، نامزد کمرشل بینکوں کی شاخوں یا نیشنل سیونگ سینٹرز سے انعامی بانڈز خرید سکتا ہے۔ انعام جیتنے کی صورت میں خوش نصیب مقررہ کلیم فارم کے ذریعے ان اداروں سے اپنی انعامی رقم حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قرعہ اندازیوں کا باقاعدہ انعقاد عوام میں بچت کے رجحان کو فروغ دینے اور انہیں مالی طور پر مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم کڑی ہے۔



