کائنات کا سب سے بڑا 3D نقشہ تیار: کیا ڈارک انرجی کمزور ہو رہی ہے؟

سائنسدانوں نے پانچ ہزار فائبر آپٹک لینز پر مشتمل ایک انتہائی طاقتور آلے کی مدد سے کائنات کا اب تک کا سب سے بڑا اور تفصیلی 3D نقشہ تیار کر لیا ہے، جس نے کائنات کی وسعت اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق انسانی نظریات کو ایک نئی بحث میں ڈال دیا ہے۔

امریکہ کی ریاست ایریزونا میں واقع قومی ابزرویٹری کی میال ٹیلی سکوپ پر نصب ڈارک انرجی سپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ (DESI) کی مدد سے چار کروڑ 70 لاکھ سے زائد کہکشاؤں اور دو کروڑ ستاروں کا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے۔ یہ تصویر ماضی میں کی گئی تمام پیمائشوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ وسیع ہے، جو 11,000 ملین نوری سال کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے۔ کولمبیا کی ای سی سی آئی یونیورسٹی کی محقق لوز اینجیلا گارسیا کے مطابق، اس نقشے میں کائنات کے ابتدائی مراحل کی ان کہکشاؤں کو بھی فلم بند کیا گیا ہے جو بگ بینگ کے قریب وجود میں آئیں اور جن کی عمر 13,700 ملین سال بتائی جاتی ہے۔ یہ سنگ میل کہکشاؤں کی ساخت اور ان کی ترتیب کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ تاریک مادے (ڈارک میٹر) کے رازوں سے پردہ اٹھانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

ڈارک انرجی کا بدلتا ہوا کردار:

کائنات کا تقریباً 70 فیصد حصہ ڈارک انرجی پر مشتمل ہے، جو کائنات کے پھیلاؤ کو تیز کرنے والی ایک پراسرار قوت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کے نظریۂ اضافت کے مطابق ڈارک انرجی کو ایک ‘کاسمولوجیکل کانسٹنٹ’ یا کونیاتی مستقل سمجھا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک مستحکم قوت ہے جو کائنات کو یکساں انداز میں پھیلا رہی ہے۔ تاہم، DESI کے حالیہ مشاہدات اس روایتی خیال کو چیلنج کر رہے ہیں۔ نئے اشارے بتاتے ہیں کہ ڈارک انرجی مستقل رہنے کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوتی ہے اور اس میں تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔

مستقبل کی پیش گوئی اور ‘بگ کرنچ’ کا امکان:

سنہ 2025 میں DESI کی جانب سے کیے گئے اعلانات میں یہ بتایا گیا تھا کہ ڈارک انرجی کا پھیلاؤ پیدا کرنے والا اثر کمزور پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوتا ہے کہ ڈارک انرجی وقت کے ساتھ کمزور ہو رہی ہے، تو یہ کائنات کے مستقبل کے بارے میں ہماری تمام تر پیش گوئیوں کو بدل کر رکھ دے گا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ قوت اتنی کمزور ہو گئی کہ کششِ ثقل اس پر غالب آ جائے، تو کہکشائیں ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کر دیں گی۔ یہ عمل آخر کار کائنات کے ‘بگ کرنچ’ یعنی عظیم انہدام پر منتج ہو سکتا ہے، جو کہ کائنات کے خاتمے کا ایک نیا تصور پیش کرتا ہے۔

نقشے کی توسیع اور ڈارک میٹر کی تلاش:

DESI کے محققین اب اس نقشے کو مزید 20 فیصد تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ 17,000 مربع ڈگری کے رقبے تک پھیل جائے۔ اس وسیع ورژن میں ان علاقوں کو بھی شامل کیا جائے گا جہاں زمین کی فضا یا ستاروں کی اپنی چمک مشاہدے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ماہر فلکیات ایتھن سیگل کے مطابق، ایک مربع ڈگری کا رقبہ آسمان پر انسان کی چھوٹی انگلی کے ناخن جتنا ہوتا ہے۔ DESI کے ڈائریکٹر مائیکل لیوی کا کہنا ہے کہ اس تمام تر کوشش کا مقصد ڈارک میٹر کی اصل حقیقت کو تلاش کرنا ہے، جو کائنات کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود آج تک براہِ راست دریافت نہیں ہو سکا۔

Scroll to Top